وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں بہترین کردار ادا کیا:جے ڈی وینس

امریکہ،ایران مذاکرات ختم فریقین کے درمیان معاہدہ نہ ہو سکا
 ایران نے ہماری شرائط تسلیم نہیں کیں،ایران کے ساتھ 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، جن میں مختلف امور پر بات چیت کی گئی، امریکی صدر کا مقصد یہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے:نائب امریکی صدر 
 امریکہ ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہامیں اپنے دوست اور برادر ملک پاکستان کا بھی شکر گزار ہوں جس نے ان مذاکرات کے عمل کو آسان بنانے میں کردار ادا کیا، میں پاکستان کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں: سپیکر پارلیمنٹ
(1)
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے امریکی شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں بہترین کردار ادا کیا۔جے ڈی وینس کے مطابق ایران کے ساتھ 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، جن میں مختلف امور پر بات چیت کی گئی، لیکن ایران نے ہماری شرائط تسلیم نہیں کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایران سے کوئی یقین دہانی نہیں ملی، اور امریکی صدر کا مقصد یہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔نائب صدر نے کہا کہ ہم اپنی ریڈ لائنز اور قابل ایڈجسٹ نکات واضح کر چکے ہیں، اور ایرانی وفد کو وہ چیزیں بھی بتا دی ہیں جو ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی ٹیم کی پیشکش آخری اور بہترین تھی، اب دیکھنا ہے کہ ایران اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔
(2)
تہران: (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وفد کے سربراہ سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہنے ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ وہ فیصلہ کریں ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ایرانی سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا ہے کہ ایرانی وفد میں میرے ساتھیوں نے مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے تجاویز پیش کیں، مخالف فریق اس مرحلے میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل اس بات پر زور دیا کہ ہمارے پاس ضروری حسنِ نیت اور ارادہ موجود ہے، لیکن گزشتہ دو جنگوں کے تجربات کی وجہ سے ہمیں مخالف فریق پر اعتماد نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر محاذ کو، فوجی جدوجہد کے ساتھ ساتھ، اقتدار کی سفارت کاری کا ایک اور ذریعہ سمجھتے ہیں تاکہ ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے، اور ہم ایران کے قومی دفاع کے چالیس دنوں کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں ایک لمحے کے لیے بھی کمی نہیں آنے دیں گے۔محمد باقر قالیباف نے کہا کہ میں اپنے دوست اور برادر ملک پاکستان کا بھی شکر گزار ہوں جس نے ان مذاکرات کے عمل کو آسان بنانے میں کردار ادا کیا، اور میں پاکستان کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایران 9 کروڑ افراد پر مشتمل ایک قوم ہے، میں ایران کے تمام بہادر عوام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے رہبرِ اعلیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر اپنے بچوں کی حمایت کی اور ہمیں اپنی دعاؤں کے ساتھ روانہ کیا، اس پر میں ان کا ممنون ہوں، اور ان 21 گھنٹوں پر مشتمل سخت مذاکرات میں شریک اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں: شاباش، اللہ آپ کو قوت دے۔انہوں نے ایکس پر آخر میں لکھا کہ زندہ باد اور ہمیشہ قائم رہے ہمارا پیارا ایران!