سوئٹزرلینڈ؛ پاکستان کی میزبانی میں امریکہ،ایران مذاکرات دنیا میں امن اور استحکام کیلئے جمع ہوئے:شہباز شریف
ٹرمپ کی دھمکیوں پر مذاکرات میں تعطل ،ایران کا شدید احتجاج ،ایرانی وفد کا احتجاجاً مذاکرات کے دوسرے دور میںشرکت سے انکار، پہلا دور 80 منٹ جاری رہا،دونوں ملک امن کیلئے مخلص ہیں: شہباز شریف
مشترکہ کوششوں سے دنیا میں اتحاد، امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے‘قطر کے وزیراعظم کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین،محسن نقوی بھی مذاکرات میں شریک
برگن سٹاک: (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں برگن اسٹاک میں تکنیکی مذاکرات ہوئے ہیں۔سوئٹزرلینڈ کے ہرگن اسٹاک کی لیک لوزن سمٹ کے کانفرنس ہال میں سب سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سینئر محسن نقوی داخل ہوئے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ کانفرنس پہنچنے تو پاکستانی وفد نے ان کا استقبال کیا۔امریکا اور ایران کے وفود اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درا?مد کیلیے لیک لوزن سمٹ میں جمع ہوئے ہیں، اس موقع پر قطری وزیراعظم بھی کانفرنس ہال میں پہنچنے۔ اسپیکر باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد بھی پاکستان کی میزبانی میں ہو رہے مذاکرات میں شرکت کیلیے کانفرنس ہال پہنچا ، جس کے بعد فریقین کے درمیان تکنیکی مذاکرات شروع ہو ئے مذاکرات میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، وزیراعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایرانی باقری قالیباف ، عباس عراقچی شریک ہوئے۔ فریقین کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کی سربراہی کی پیشکش کی گئی۔
برگن سٹاک: (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال عالمی امن کے لیے ایک اہم موقع ہے اور تمام رہنما دنیا میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت میں امن مذاکرات ممکن ہوئے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ان مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں سے دنیا میں اتحاد، امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔قطر کے وزیراعظم نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ امن عمل صرف آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے کے بہتر مستقبل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ہیں اور آج ہونے والی پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔