طویل انکوائریاں نہیں ہوں گی، کم رزلٹ پر براہ راست کارروائی ہوگی،3سے 5سال مسلسل خراب رزلٹ دینے والے استاد کو عہدے پر رہنے کا حق نہیں
اعلی کارکردگی والے اساتذہ کو انعام دیا جائے گا‘13ہزار سے زائد سکولوں کو نجی شعبے کو دیا گیا‘تعلیم اور کتابیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں:رانا سکندر حیات
لاہور(آئی این پی )پنجاب کے سرکاری سکولوں کی خراب کارکردگی پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے انکوائری شروع کردی۔وزیرتعلیم پنجاب راناسکندرحیات نے کہا ہے 20 فیصد یا اس سے کم نتائج والے 2200 سرکاری سکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے،نویں جماعت میں 20فیصد سے کم نتائج پر پرنسپلز اور سربراہان کو تین روز میں وضاحت دینے کا حکم دیاگیاہے۔وزیرتعلیم پنجاب راناسکندرحیات نے اپنے بیان میں کہا متعلقہ سکول سربراہان کو تعلیمی معیار اور طلبہ کے نتائج میں بہتری لانے کا حکم دیاگیاہے جبکہ 20 فیصد سے کم رزلٹ دینے والے اساتذہ کو ملازمت سے ہٹایا جائے گا۔ رانا سکندر حیات کاکہناہے کہ اساتذہ کے خلاف طویل انکوائریز نہیں ہوں گی، کم رزلٹ پر براہ راست کارروائی ہوگی،3سے 5سال مسلسل خراب رزلٹ دینے والے استاد کو عہدے پر رہنے کا حق نہیں، اعلی کارکردگی والے اساتذہ کو انعام بھی دیا جائے گا۔انہوں نے کہا13ہزار سے زائد سکول نجی شعبے کو دیئے جا چکے ہیں جہاں تعلیم اور کتابیں مفت فراہم کی جارہی ہیں