ریسکیو کشتیوں کے حادثات میں30 اموات

جلالپور کشتی حادثے میں 9اموات، 4بہن بھائی شامل، ڈرم میں بچوں کو لے جانیوالی ماں ڈوب گئی،بہاولنگر میں بند ٹوٹ گیا 
سندھ کے کچے میں تباہی ،کئی بستیاں زیر آب ،15لاکھ افراد متاثر، گدو،سکھر بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ 
وہاڑی، ملتان،کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب میں مون سون بارشوں کی شدت میں کمی واقع ہونے سے صوبے کے تینوں دریائوں میں پانی کے بہائو میں نمایاں کمی واقع ہورہی ہے، تاہم جنوبی پنجاب میں سیلابی صورتحال برقرار ہے،جلالپور کے چاروں طرف پانی موجود ہے ،شہر کو بچانے کیلئے اوچ شریف روڈ پر واقع گیلانی بند توڑ دیا گیا ،ریسکیو کشتیوں کے حادثات میں اموات 30 ہوگئیں، دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق امداد ی کارروائیوں کے دوران کشتیاں الٹنے کے باعث 30 قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے اور 8 اب بھی لاپتا ہیں، پیر والا کے موضع شجاعت پور میں رابطہ بی بی اپنے بچوں کو بچاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گئی ، بتایا گیا کہ خاتون نے ریسکیو کشتی نہ ملنے پر بچوں کے ہمراہ حفاظتی بند کی طرف چلنا شروع ، اس کیلئے خاتون نے اپنی مدد آپ کے تحت ڈرم اور لکڑی کی مصنوعی کشتی بنائی تھی جو کہ راستے میں ٹوٹ گئی،مقامی افراد نے بچوں کو زندہ نکال لیا تاہم خاتون کی لاش ملی ہے۔ادھر جلالپور کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 9 ہوگئی، بتایا گیا کہ خان بیلہ سے متاثرین سیلاب پرائیویٹ کشتی پر سوار ہو کر جلال پور آرہے تھے کہ موہانہ سندیلہ کے قریب کشتی الٹ گئی،اس کشتی میں سوار 28 افراد سیلاب میں ڈوب گئے،مقامی افراد نے سیلاب میں ڈوبنے والے افراد کو نکالنا شروع کیا اور 19 افراد کو محفوظ نکال لیا. جبکہ 4 سالہ سلیمان کی ڈیڈ باڈی ملی، گزشتہ صبح سے ریسکیو ٹیم اور مقامی افراد نے باقی دیگر افراد کی تلاش شروع کی تو عرفان، اسما، ارم، زاہد ببلو، فیضان، عابد ڈبہ،جاوید اور شگو بی بی کی لاشیں مل گئیں، جاں بحق ہونے والے میں جاوید، زاہد ببلو،شگو بی بی اور ارم 4 بہن بھائی تھے۔بہاولنگر میں سیلاب سے متاثرہ علاقے چک لالیکا کے قریب سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی، حادثہ گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی کے باعث پیش آیا، ریسکیو ٹیموں نے بروقت ریسکیو آپریشن کرکے ڈوبنے والے 20 افراد کو بچالیا جبکہ لاپتا 3 افراد کی تلاش جاری ہے۔کشتی میں سیلاب متاثرین کو کھانا تقسیم کرنے کے لیے جانے والی امدادی ٹیم بھی سوار تھی۔ادھر دریائے چناب کا ایک اور بڑا ریلا ملتان کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، جلال پور پیراوالا کو بچانے کے لیے اوچ شریف روڈ میں شگاف ڈال دیا گیا،دریائے چناب اور دریائے ستلج میں سیلاب سے 70 سے زائد مواضعات زیر آب آگئے،سیلاب کی نکاسی نہ ہونے سے جلال پور میں سیلاب آکر تھم گیا ہے، 30 مربع کلومیٹر تک جلال پور پانی کا سمندر بن گیا ہے،سیلاب نکل نہیں پاررہا،7 روز سے سیلاب نے شہر کو گھیر رکھا ہے. اور سیلاب کی سطح ابھی تک بلند ہورہی ہے۔تحصیل جلال پور پیر والا میں سیلابی ریلوں سے شدید تباہی مچی ہوئی ہے، بستیاں اور قصبے پانی کی نذر ہوگئے، شہر کو بچانے کیلئیملتان، اوچ شریف روڈ پر واقع گیلانی بند میں بھاری مشینری کی مدد سے شگاف ڈال دیا گیا ہے جس سے سیلابی دبائو میں نمایاں کمی لائی گئی تاہم ہیڈ تریموں سے نکلنے والا ریلہ جلالپور پیر والہ کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا۔ بستی برار فلڈ بند میں پڑنے والے شگاف کو پر کرنے کا عمل بھی شر وع کر دیا گیا تاکہ شہر کو براہِ راست نقصان سے بچایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق گیلانی بند میں شگاف ڈال کر جلال پور پیر والا شہر میں پانچ لاکھ لوگوں کی آبادی کو بچایا گیا ہے، تاہم اب پانی بہادر پور شمالی، بہادر پور جنوبی اور بستی لانگ کی طرف جائے گا،موضع کنہوں، بستی صبیرہ اور کنڈیر کے زرعی علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہوں گے۔ان علاقوں سے قریباً 80ہزار افراد کو نکالا گیا ہے۔آئندہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح مزید کم ہو نے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔بہاولنگر میں دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں کے باعث چک سنتیکا کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جس کے باعث پانی آبادی میں داخل ہوگیا، اہل علاقہ کی محفوظ مقام کی جانب نقل مکانی جاری ہے۔بہاولنگر کی 160 کلومیٹر طویل دریائی پٹی سیلاب کی زد میں ہے جبکہ ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد آبادی ریلے سے متاثر ہوئی ہے۔وہاڑی میں دریائے ستلج میں اونچے درج کا سیلاب برقرار ہے، جس کے باعث بورے والا، وہاڑی اور میلسی کے 93 سے زائد دیہات اور مواضع متاثر ہوئے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق 61 ہزار ایکڑ پر کپاس، چاول، مکئی اور گنے کی فصلیں زیر آب آگئیں، 80 ہزار افراد کا انخلا مکمل کرلیا گیا ہے۔ خانیوال کی تحصیل کبیروالا میں مائی صفوراں بند میں شگاف پڑنے سے 46 دیہات زیر آب آگئے اور ہزاروں ایکڑ پر کاشت فصلیں اور فش فارمز تباہ ہوگئے ہیں، سیکڑوں مکانات اور سرکاری عمارتیں ڈوب گئیں۔پاکپتن میں دریائے ستلج کے بہائو کی رفتار میں کمی آرہی ہے، البتہ سیلابی کیفیت کے پیش نظر وہاں ریلیف کیمپس تاحال قائم ہیں اور متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جارہی ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہائو اب بھی ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک ہے اور اس کی وجہ انڈیا کی جانب سے گزشتہ تین روز سے مسلسل چھوڑا جانے والا پانی ہے، مون سون بارشوں میں کمی سے پنجاب کے دریائوں میں پانی کا بہائو کم ہونے لگا۔پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے انتظامیہ کو ریسکیو و ریلیف ساز و سامان کی فراہمی جاری ہے اور4 ہیلی کاپٹرز ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ جلال پور پیر والا میں صورتحال کے پیش نظر اضافی 2000 ٹینٹ فراہم کر دیے ہیں۔ رات کے اوقات میں سرچ آپریشنز کیلئے جدید سرچ لائٹس اور دیگر سامان مہیا کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اضافی بوٹس، لائف جیکیٹس، رنگز اور دیگر ساز و سامان کی فراہمی کو یقینی بنا یا جارہا ہے۔ ملتان جلالپور پیروالہ میں سیلاب سے 138 موضع جات اور 7 لاکھ 6 ہزار شہری متاثر ہوئے ہیں اوراب تک ملتان میں 3 لاکھ 62 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ ملتان میں 3 لاکھ 11 ہزار 1 سو 44 مویشیوں کو سیلابی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔متاثرین کے لیے78 ریلیف کیمپس میڈیکل کیمپس اور ویٹرنری کیمپس فعال ہیں۔دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہائو 50 ہزار کیوسک تک آ گیا ہے جبکہ ہیڈ خانکی کے مقام پر اب پانی کا بہائو 92 ہزار کیوسک تک ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب میں پاک فوج اور رینجرز نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریلیف آپریشنز کو مزید تیز کر دیا ہے۔دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کی سطح 23 ہزار کیوسک تک آ چکی ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہائو 31 ہزار کیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہائو 63 ہزار کیوسک اور خطرے کے نشان تک پہنچ جانے والے ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہائو اب 78 ہزار کیوسک تک آگیا ہے۔رحیم یارخان کے علاقے چاچڑاں شریف میں دریائے سندھ کی سطح پھر بڑھ گئی ہے، اگلے 12 گھنٹوں میں 8 لاکھ سے زائد کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔پنجاب کے تین دریائوں کا پانی ہیڈ پنجند کے مقام سے ہوتا ہوا دریائے سندھ میں داخل ہو رہا ہے۔محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری کے مطابق گڈو بیراج کو آئندہ 48 گھنٹے میں ’انتہائی بلند‘ سیلابی صورتحال کا سامنا ہوگا، جبکہ اسی دوران سکھر بیراج ’بلند‘ سیلابی سطح تک پہنچ جائے گا۔دریائے سندھ میں سکھر کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا، جس سے کچے کے علاقے زیر آب آگئے، متعدد دیہات میں پانی داخل ہونے پر متاثرین کا انخلا جاری ہے، انتظامیہ کی جانب سے عوام سے کچا چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیلیں کی جارہی ہیں۔نوشہروفیروز میں پانی کی سطح بلند ہونے سے دربیلو کے قریب زمینداری بند ٹوٹ گیا، بند ٹوٹنے سے پانی گائوں مردان چانڈیو میں داخل ہوگیا جہاں مکین پھنسے ہوئے ہیں، گائوں کے اطراف سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔کشمور میں دریائے سندھ گڈو بیراج پر درمیانے درجہ کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، گزشتہ 12 گھنٹے کے دوران گڈو بیراج میں پانی کی آمد میں 7 ہزار 352 کیوسک کا اضافہ ہوا۔ پانی کی سطح میں اضافے سے کچے کا علاقہ مکمل زیر آب آگیا اور گنے، کپاس سمیت دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں، کچے میں سیلابی صورتحال ہونے کے باعث مال مویشی کا چارہ بھی ختم ہوگیا۔ادھر میں مٹیاری میں مسلسل بارشوں سے دریائے سندھ کے حفاظتی بندوں پر پانی کا دبائو بڑھنے لگا۔ حفاظتی بندوں پر دبائو بڑھنے سے پکے کے نشیبی علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔گڈو کے مقام پر بھی دریائے سندھ میں طغیانی ہے، حفاظتی بند شینک کے قریب زمینداری بند ٹوٹ گیا، جس کے باعث 20 سے زائد دیہات زیر آب آگئے اور گنے، کپاس اور سبزیوں کے کھیتوں میں پانی داخل ہوگیا۔صوبہ سندھ میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے کچے کے 15 لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے ہیں تاہم ابھی تک کوئی بھی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے ریلیف کیمپ میں نہیں آیا ہے۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ’سکھر بیراج کی گنجائش 15 لاکھ کیوسک تھی اب دس دروازے بند کرنے کے بعد 9 لاکھ 60 ہزار کیوسک ہوگئی ہے۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ سکھر بیراج کی گنجائش کو بڑھایا جائے۔کراچی میں تیسرے روز بھی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کے حالیہ سلسلے کے دوران کراچی میں زیادہ سے زیادہ سرجانی ٹائون میں 143 ملی میٹر اور کم از کم جناح ٹرمینل پر 38 ملی میٹر بارش رکارڈ کی گئی ہے۔تھدو ڈیم سے آنے والے پانی سے سعدی ٹائون، شہباز گٹھ، لیاری اور ملیر ندی کے نشیبی علاقوں میں تاحال پانی موجود ہے،ملیر ندی سے دونوں کاز وے بند ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو واحد جام صادق پل سے گزرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔