سعودی عرب کا بڑا فیصلہ: 2030 تک 130 گیگاواٹ شمسی و ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا اعلان

سعودی عرب کا بڑا فیصلہ: 2030 تک 130 گیگاواٹ شمسی و ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا اعلان

سعودی عرب نے توانائی کے شعبے میں تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک 130 گیگاواٹ بجلی شمسی اور ہوا کے ذرائع سے پیدا کرے گا۔

 اس منصوبے کے تحت تیل پر انحصار کم کرکے ملک کو ماحول دوست اور سستی توانائی کی طرف منتقل کیا جائے گا۔

موجودہ صورتحال
اس وقت سعودی عرب میں 4340 میگاواٹ بجلی شمسی ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے، جو 2023 میں صرف 2585 میگاواٹ تھی۔ یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت تیزی سے قابلِ تجدید توانائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

بڑے منصوبے اور سرمایہ کاری
سرکاری سرمایہ کاری فنڈ (PIF) کی معاونت سے ACWA پاور اور آرامکو پاور جیسے ادارے تقریباً 8.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے بڑے منصوبے چلا رہے ہیں۔ان منصوبوں میں 1.5 گیگاواٹ سودیر سولر پراجیکٹ نمایاں ہے۔بین الاقوامی کمپنیاں جیسے ٹوٹل انرجیز اور ای ڈی ایف بھی سعودی منصوبوں میں شراکت دار ہیں۔
ماہرین کی رائے
شمسی توانائی سے اربوں ڈالر کی بچت ممکن ہوگی۔خام تیل کو بجلی پیدا کرنے کے بجائے برآمدات کے لیے محفوظ رکھا جا سکے گا۔چین کی وجہ سے سولر پینلز اور بیٹری اسٹوریج کی قیمتیں کم ہونے سے بجلی مزید سستی ہوگئی ہے۔حالیہ نیلامیوں میں شمسی بجلی کی قیمت 1.3 سینٹ فی کلو واٹ آور سے بھی کم رہی، جو تیل سے پیدا ہونے والی بجلی کے مقابلے میں انتہائی سستی ہے۔