ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے جیل میں وکلا کی ملاقات کرانے کا حکم، سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے جیل میں وکلا کی ملاقات کرانے کا حکم، سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے بیرئیر ہٹانے سے متعلق دہشت گردی کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے وکلا کی جیل میں ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری، ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد اور ایڈووکیٹ ایمل خان عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے وکلا ریاست علی آزاد، زینب جنجوعہ اور ایمل خان کو ہدایت کی کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے جیل میں ملاقات کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ مقدمے کی تیاری اور پیروی کر سکیں۔دورانِ سماعت ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ملزمان سے ملاقات نہیں ہوگی تو وہ مقدمے کو آگے کیسے چلائیں گے۔ اس پر جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چلنا چاہیے۔عدالت نے استغاثہ سے مقدمے میں باقی گواہوں کی تعداد کے بارے میں استفسار کیا، جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ استغاثہ کے مزید نو گواہ ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ملزمان تک وکلا کی رسائی یقینی بنائی جائے۔
اس موقع پر ہادی علی چٹھہ نے شکایت کی کہ انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا، جو ان کے بقول شفاف ٹرائل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آٹھ ماہ سے جیل میں ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اپنے مقدمے کی پیروی کیسے کریں۔ہادی علی چٹھہ نے مزید کہا کہ جیل میں ملاقات کے مقامات پر کیمرے نصب ہوتے ہیں، جس سے وکیل اور مؤکل کے درمیان آزادانہ گفتگو مشکل ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں عدالت میں پیش کیا جائے کیونکہ یہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے کہ وہ اور ایمان مزاری قصوروار ہیں یا نہیں۔عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمان سے وکلا کی جیل میں ملاقات کرانے کی ہدایت برقرار رکھی۔