تازہ تجزیوں اور سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس نے لیبیا میں اپنی فوجی موجودگی اور لاجسٹک صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
امریکی نیشنل جیو اسپیشل انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق روس کی حمایت یافتہ افریقہ کور کم از کم چھ لیبیائی فضائی اڈوں پر انفراسٹرکچر کی توسیع اور تعمیراتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔رپورٹس کے مطابق روسی سرگرمیوں میں رن ویز اور ہینگرز کی تعمیر و مرمت، رہائشی اور معاون عمارتوں کی تعمیر، جبکہ مختلف مقامات پر فوجی سازوسامان کی تعیناتی شامل ہے۔ جن فضائی اڈوں پر سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں الجفرہ، الخادم، القرضابیہ، تمنہنت، براق الشاطی اور ماتن السرا شامل ہیں۔
لڑاکا طیاروں اور فضائی دفاعی نظام کی موجودگی
سیٹلائٹ تصاویر اور متعلقہ تجزیوں کے مطابق بعض فوجی مقامات پر روسی اہلکاروں کے ساتھ ایم آئی جی 29 لڑاکا طیارے، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام بھی دیکھے گئے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو لیبیا میں روسی فوجی ڈھانچے کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق فضائی اڈوں پر بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے فوجی طیاروں کی نقل و حرکت، سازوسامان کی ترسیل اور اہلکاروں کی تعیناتی میں سہولت پیدا ہوسکتی ہے۔ تاہم ان سرگرمیوں کے مکمل پیمانے اور مستقبل کے مقاصد کا تعین مزید معلومات سے ہی ممکن ہوگا۔
طبرق بندرگاہ روس کے لیے اہم کیوں؟
لیبیا کی طبرق بندرگاہ بھی روسی حکمت عملی میں اہم مقام رکھتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ماسکو وہاں رسد اور بحری سرگرمیوں کے لیے سہولتیں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔اگر یہ منصوبے مکمل ہوجاتے ہیں تو روس کو بحیرۂ روم میں ایک اہم فوجی اور لاجسٹک مرکز میسر آسکتا ہے۔ اس کے ذریعے روسی اہلکاروں، ہتھیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا ہونے کے علاوہ افریقہ کے ساہل خطے میں سرگرمیوں کو بھی مدد مل سکتی ہے۔
شام کے بعد لیبیا کی اہمیت میں اضافہ
لیبیا جغرافیائی اعتبار سے روس کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ بحیرۂ روم، شمالی افریقہ اور ساہل کے خطے کے درمیان رابطے کا اہم مقام ہے۔ شام میں روس کے سابق فوجی ڈھانچے کو درپیش مشکلات کے بعد لیبیا ماسکو کے لیے افریقہ میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے اور رسد کی ترسیل کے حوالے سے زیادہ اہمیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔روس کی جانب سے لیبیا میں فضائی اڈوں اور ممکنہ بحری سہولتوں کو وسعت دینے کی کوششیں خطے میں اس کے اسٹریٹیجک مفادات کی عکاسی کرتی ہیں۔ تاہم ان منصوبوں کی حتمی نوعیت، وسعت اور مستقبل کے فوجی اثرات کا انحصار آئندہ پیش رفت پر ہوگا۔