ایمرجنسی مسترد ،نفاذ سنگین سیاسی غلطی،وفاق فیصلہ واپس لے(بیرسٹر گوہر)

صوبوں کو کمزور کرکے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا، مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے
 صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت، اس اقدام کو یکسر مستردکرتے ہیں،عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے:چیئرمین پی ٹی آئی
اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کو یکسر مستردکرتے ہیں،عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے،صوبوں کو کمزور کرکے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا۔وفاق ego کو جانے دیں، زمینی حقائق کو سمجھے ، جائز مطالبات تسلیم کرے، عوام کے احساسات اور جذبات کا احترام کرے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ردِعمل میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے۔عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ اس مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے، صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی آواز کو دبانے، سیاسی مقاصد کے حصول یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔بیرسٹرگوہرنے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔صوبوں کو کمزور کرکے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا۔ مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔انہوںنے کہا کہ مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں، اور آئین کی حکمرانی ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ابھی بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جاسکتا ہے۔ وفاق ego کو جانے دیں، زمینی حقائق کو سمجھے ، جائز مطالبات تسلیم کرے، عوام کے احساسات اور جذبات کا احترام کرے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان اور جمہوری عمل کو پیچھے دھکیلنے سے بچائے۔بیرسٹرگوہرنے کہا کہ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے بصورت دیگربہت نقصان ہوجائیگا۔