بندوق کا شوق بہت خطرناک ، الفاظ کے ہیر پھیر سے گڑ بڑ نہ کریں، خیبرپختونخوا کا وزیر اعلی ٹھیک تھا، وہ کہتا تھا ظلم کیخلاف کھڑے ہو، اب بھی وقت ہے فیصلوں کو ریورس کریں:اپوزیشن لیڈر
حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی لگانی ہے تو پھر کچے کے علاقے میں بھی ایمرجنسی لگا دیں، ماضی میں سندھ اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی پر پیپلز پارٹی کے تحفظات رہے ہیں:چیئرمین پی ٹی آئی
اسلام آباد (آئی این پی )قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیصلوں کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بندوق کا شوق بہت خطرناک ہوتا ہے اور حکومت الفاظ کے ہیر پھیر سے معاملے کو گڑ بڑ کرنے سے گریز کرے، آج بھی ملک و آئین کی خاطر وزیراعظم کے ساتھ مل کر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، یہاں ایوان میں دو کرسیاں لگائیں، میں اور شہباز بھائی آمنے سامنے بیٹھ جاتے ہیں اور مسائل کا حل نکالتے ہیں، ایمرجنسی کا فیصلہ سراسر غلط ہے، اسے چھوڑیں اور لوگوں سے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔سابق وزیراعلی خیبر پختونخواہ کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی ٹھیک انسان تھا، نہ وہ کسی کو گالی دیتا تھا بلکہ صرف یہی کہتا تھا کہ اس ظلم کے خلاف کھڑے ہو جا، لہذا اب بھی وقت ہے کہ حکومت ان غیر آئینی فیصلوں کو ریورس کرے، آج ذوالفقار علی بھٹو قلندر سے بڑا پیر بن چکا ہے، کیا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی قلندر بنانا چاہتے ہیں؟چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے جمہوریت میں کسی بھی منتخب حکومت کو اس طرح برخاست نہیں کیا جاتا، آرٹیکل 58 ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آئیندہ بھی کرتے رہیں گے۔پالیمنٹ ہائو س کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایمرجنسی لگانے کے عمل سے جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کو نقصان ہو گا۔ اس عمل سے دہشت گردی کے خلاف آپ کا بیانیہ نظر انداز ہو گا۔انھوں نے کہا کہ اگر حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی لگانی ہے تو پھر کچے کے علاقے میں بھی ایمرجنسی لگا دیں۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے اقدامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جمہوریت کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔ ماضی میں سندھ اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی پر پیپلز پارٹی کے تحفظات رہے ہیں۔