پی ٹی ائی میں گروپنگ: وجوہات، اثرات اور مستقبل

عابد گوندل

پاکستان تحریک انصاف ایک عرصے تک پاکستان کی سب سے منظم اور پْرجوش سیاسی جماعت سمجھی جاتی رہی ہے، مگر حالیہ برسوں میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی نے اس کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ پی ٹی ا?ئی کی مقبولیت میں اضافے کے بعد اس میں مختلف نظریات، شخصیات اور سیاسی پس منظر رکھنے والے افراد شامل ہوئے، جس کے باعث گروپنگ کی فضا پیدا ہوئی۔پی ٹی ا?ئی میں گروپنگ کی کئی وجوہات ہیں جن میں ذاتی مفادات، قیادت سے اختلافات، نظریاتی تفریق اور سیاسی حالات شامل ہیں۔پی ٹی ا?ئی ایک ایسی جماعت رہی ہے جس میں روایتی سیاستدانوں، نوجوان قیادت اور ٹیکنوکریٹس سمیت مختلف پس منظر کے لوگ شامل ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پارٹی نے اپنی ابتدائی جدوجہد میں ایک انقلابی اور نظریاتی جماعت کے طور پر شہرت حاصل کی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی ضروریات کے تحت دیگر جماعتوں سے ا?نے والی سیاسی شخصیات نے پی ٹی ا?ئی میں مختلف نظریات کو جنم دیا۔2018 کے انتخابات سے قبل اور بعد میں بڑی تعداد میں الیکٹیبلز پی ٹی ا?ئی میں شامل ہوئیجن کی موجودگی سے پارٹی کے بنیادی نظریاتی کارکنان میں بے چینی پیدا ہوئی۔ یہ لوگ ذاتی سیاسی مفادات کے تحت پارٹی کا حصہ بنے تھے اور ان کے فیصلے اکثر پارٹی کے نظریے سے متصادم نظر ا?ئے۔ اس وجہ سے پارٹی میں دو واضح گروپس بن گئے۔ ان میں ایک نظریاتی کارکنان کا گروہ اور دوسرا سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے الیکٹیبلزکا کروپ ہے۔ الیکٹیبلز وہ سیاستدان ہوتے ہیں جو ذاتی اثر و رسوخ، خاندانی سیاسی وراثت، یا مقامی برادریوں کی حمایت کی وجہ سے انتخابات جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پی ٹی ا?ئی نے 2018 کے انتخابات سے قبل بڑی تعداد میں الیکٹیبلز کو اپنی جماعت میں شامل کیا۔ ان میں زیادہ تر وہ سیاستدان تھے جو پہلے مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کا حصہ رہ چکے تھے۔ ان کی شمولیت نے پارٹی میں ایک نظریاتی اور غیر نظریاتی گروپ بندی پیدا کی۔الیکٹیبلز زیادہ تر اپنے علاقوں میں ذاتی ووٹ بینک رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر ان کا اثر بڑھ جاتا ہے۔ وہ اکثر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرتے ہیں، جس سے پی ٹی ا?ئی میں اندرونی اختلافات جنم لیتے ہیں۔ہر الیکشن میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران الیکٹیبلز اور پرانے پارٹی رہنماو?ں کے درمیان کشمکش دیکھنے کو ملی۔ 2018 کے انتخابات میں کئی نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کر کے الیکٹیبلز کو ترجیح دی گئی جس سے پارٹی کے اندر گروہ بندی مضبوط ہوئی۔جب پی ٹی ا?ئی کی حکومت بنی، تو مختلف الیکٹیبلز نے اپنے مفادات کے مطابق گروہ بندی کر لی۔ کچھ شخصیات، جیسے جہانگیر ترین گروپ، علیم خان گروپ اور پرویز خٹک گروپ، پارٹی کے اندر اثر و رسوخ رکھنے لگے۔ یہ گروہ بندی حکومت سازی، وزارتوں کی تقسیم، اور پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہوئی۔الیکٹیبلز اکثر پارٹی قیادت پر دباو? ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ فیصلے ان کے حق میں ہوں۔ کئی بار انہوں نے اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی، جس سے پارٹی میں تقسیم مزید واضح ہوئی۔2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور بعد میں پارٹی پر کریک ڈاو?ن کے بعد کئی الیکٹیبلز پارٹی چھوڑ گئے یا خاموش ہو گئے۔ جو رہ گئے، انہوں نے الگ الگ گروپس بنالیے، جس سے پی ٹی ا?ئی میں مزید دھڑے بندی پیدا ہوئی۔عمران خان کی قیادت کو چیلنج کرنے والے کئی رہنما پارٹی کے اندر موجود رہے ہیں جو کسی نہ کسی موقع پر اختلافات کی وجہ سے علیحدہ ہو گئے یا پس منظر میں چلے گئے۔ پارٹی کے اندر کچھ سینئر رہنما عمران خان کے فیصلوں سے ناخوش دکھائی دیے اور اپنے الگ دھڑے بنانے لگے۔
پی ٹی ا?ئی طویل عرصے تک منظم پارٹی کے طور پر کام کرتی رہی مگر حکومت میں ا?نے کے بعد تنظیمی معاملات میں مسائل پیدا ہوئے۔ پارٹی کے اندر مختلف گروپس نے اپنے اپنے مفادات کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کی جس کے باعث اختلافات مزید گہرے ہوگئے جنہوں نے جماعت کو کئی سطح پر نقصان پہنچایا ہے۔ان اختلافات کے باعث پی ٹی ا?ئی کی سیاسی قوت کمزور ہوئی ہے۔ حکومت سے علیحدگی کے بعد پارٹی کو دوبارہ مستحکم کرنے میں مشکلات پیش ا?ئیں کیونکہ اندرونی چپقلش کے سبب ایک مضبوط حکمت عملی تشکیل نہ دی جا سکی۔انتخابی سیاست پر اثرات:گروپنگ کی وجہ سے پارٹی کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم میں مسائل پیدا ہوئے۔ کئی حلقوں میں پارٹی کے اندرونی اختلافات کے باعث امیدواروں کا انتخاب متنازعہ رہا، جس کا فائدہ دیگر سیاسی جماعتوں نے اٹھایا۔پارٹی کے اندرونی تنازعات میڈیا میں نمایاں ہونے کی وجہ سے عوام کے اعتماد میں کمی ا?ئی۔ پی ٹی ا?ئی جو کہ نوجوانوں اور متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی تھی، اب اندرونی اختلافات کے باعث انتشار کا شکار دکھائی دیتی ہے۔اگر پی ٹی ا?ئی کو دوبارہ مستحکم ہونا ہے توعمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت کو چاہیے کہ وہ تمام دھڑوں کو ایک جگہ بٹھا کر ان کے مسائل کو حل کریں اور ایک متحدہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔پارٹی کو ایک واضح اور مستحکم تنظیمی ڈھانچہ دیں جس میں تمام گروپوں کو یکساں مواقع میسر ہوں اور کوئی بھی خود کو نظر انداز محسوس نہ کرے۔پارٹی کے ان کارکنان کو جو تحریک انصاف کے نظریے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیںانہیں دوبارہ متحرک کیا جائے تاکہ وہ پارٹی کی ازسرِنو تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔پارٹی کو چاہیے کہ وہ مستقبل کے انتخابات کے لیے ایک واضح اور مضبوط حکمت عملی بنائے تاکہ گروپنگ کے باعث پیدا ہونے والی تقسیم کا فائدہ مخالفین نہ اٹھا سکیں۔