پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارٹی احتجاج، واک آؤٹ اور تقریریں کرے گی اور ان ترامیم کا حصہ نہیں بنے گی جنہیں وہ غیر مناسب سمجھتی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ نواز شریف کی پارلیمنٹ آمد پر پی ٹی آئی کس طرح ردعمل ظاہر کرے گی۔ اس پر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ نواز شریف اب پاکستانی سیاست سے غیر متعلق ہو چکے ہیں، چاہے وہ آئیں یا نہ آئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کو لگتا تھا کہ ان کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا جائے گا، مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، اور پارلیمان میں انہوں نے صرف تین الفاظ بولے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریٹائرڈ افراد کے خلاف سیاسی مخالفین زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ خواجہ آصف سے سوال کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ کس طرح حکومت کے خلاف پٹیشنز دائر کی گئی ہیں یا پرویز اشرف نے وکلاء کے ذریعے ان کے خلاف کارروائی کے لیے اقدامات کیے تھے۔ میاں صاحب خود بھی وکیل بن کر ممیو گیٹ کمیشن بنوانے کی کوشش میں شامل تھے۔ بیرسٹر گوہر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سیاسی مخالفین بعض اوقات ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے ہیں یا ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کرتے ہیں۔