سوات میں اے این پی رہنما کی گاڑی کے قریب شدت پسندانہ دھماکا

سوات میں اے این پی رہنما کی گاڑی کے قریب شدت پسندانہ دھماکا

مٹہ کے علاقے شکردرہ میں سڑک کے کنارے ہونے والے بم دھماکے نے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے۔

 اس واقعہ میں اے این پی کے رہنما اور سابق امیدوار پی کے 9 ممتاز علی خان کی گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔ خوش قسمتی سے اس دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔پولیس کے مطابق، یہ دھماکا اس وقت ہوا جب ممتاز علی خان ایک جنازہ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ وہ گھر سے تقریباً 300 فٹ کے فاصلے پر نصب شدہ بارودی مواد کے قریب سے گزر رہے تھے کہ اچانک زور دار دھماکا ہوگیا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔واقعہ کے فوراً بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس حکام کے مطابق، بم کو جلد از جلد ناکارہ بنانے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، اور مقامی تفتیشی ٹیمیں دھماکے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے بارے میں معلومات جمع کر رہی ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم امن جرگہ بھی جاری تھا، جس میں مقامی رہنماؤں اور حکام کی شرکت تھی۔ اس واقعہ کو علاقائی امن کے لیے ایک منفی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، اور حکومت و سیکورٹی ادارے اس کی شدت سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ ذمہ داروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔یہ واقعہ علاقہ میں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات کی جاری سلسلے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جس سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔