آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں حالیہ دنوں میں تارکینِ وطن کے خلاف شدید احتجاج اور پُرتشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔
یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب ایک 26 سالہ ملزم پر 10 سالہ بچی سے جنسی زیادتی کا الزام عائد ہوا، جو کہ ایک حساس اور افسوسناک واقعہ ہے۔مظاہرین، جن میں بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے، احتجاج کے لیے ایک ہوٹل کے باہر جمع ہوئے جہاں عارضی طور پر پناہ گزینوں کو رکھا گیا تھا۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف زبردست احتجاج کیا، جس دوران انہوں نے پولیس وین کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی۔ اس واقعہ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے مرچ اسپرے اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جس سے صورتحال قابو میں آئی۔
مظاہروں میں سیکڑوں افراد شریک تھے اور ان کا مقصد اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرنا تھا، لیکن احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ پولیس نے چھ مظاہرین کو گرفتار بھی کیا ہے۔واضح رہے کہ یہ احتجاج گزشتہ سال 2023 میں بھی ڈبلن میں تارکینِ وطن مخالف فسادات کی یاد دلاتا ہے، جب درجنوں گاڑیاں جلا دی گئی تھیں۔مقامی میڈیا کے مطابق، یہ واقعہ ایک حساس معاملہ ہے، اور آئرلینڈ کے وزیرِ انصاف نے کہا ہے کہ جرم کو نفرت انگیزی کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ امن قائم رکھنے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔