ویب ڈیسک:پنجاب، خاص طور پر لاہور میں، سموگ کی شدت میں اضافے نے زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔
ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور میں آلودگی کی شرح 781 تک پہنچ گئی ہے، جس سے یہ دنیا کا آلودہ ترین شہر بن گیا ہے۔ شہر کے مختلف مقامات پر ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد تک بلند ہے، جیسے سید مراتب علی روڈ پر 1182، امریکی قونصلیٹ پر 922، غازی روڈ انٹرچینج پر 856 اور جوہر ٹاؤن میں 792 ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں میں بارش کا امکان نہیں ہے، اور لاہور کا درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 14 نومبر کو مغربی ہوائیں ملک میں داخل ہوں گی، جس سے موسم میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
سموگ کے باعث لوگوں میں خشک کھانسی، سانس کی تکلیف، بچوں میں نمونیا اور چیسٹ انفیکشن میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ایک ہفتے کے دوران 35 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر میں لاہور اور ملتان کی سموگ اتنی گہری دیکھی گئی ہے کہ شہر کی عمارتیں اور سڑکیں دھند میں لپٹی نظر آ رہی ہیں۔
پنجاب حکومت نے سموگ کے باعث آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، اور لاہور، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں دکانیں، شاپنگ مالز اور مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، 11 نومبر سے 17 نومبر تک ریسٹورنٹس کی آؤٹ ڈور ڈائننگ، آؤٹ ڈور گیمز، نمائشیں اور تقریبات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ میڈیکل سٹورز اور دیگر ضروری کاروبار اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔سموگ کی شدت کے باعث ٹرینیں اور پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں، حد نگاہ کی کمی کی وجہ سے موٹروے کے مختلف حصے بند کیے گئے ہیں، جن میں ایم 2 لاہور سے کوٹ مومن، ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم، اور لاہور سیالکوٹ موٹروے شامل ہیں۔