وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات اور عالمی جنگی صورتحال کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر گہرا اثر ہے۔
انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ کو ملک کی معیشت کے لیے ضروری قرار دیا اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عارضی بندوبست ہے تاکہ ملک کو مالیاتی بحران سے نکالا جا سکے۔ خواجہ آصف نے صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ جس دن جنگ ختم ہوگی، اس کے فوراً بعد پٹرول کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جنگ جلد ختم ہوگی اور صورتحال بہتر ہونے کے ساتھ ہی عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں قیمتیں معمول پر واپس آئیں گی۔ مزید برآں، وزیرِ دفاع نے بتایا کہ عالمی سطح پر جنگ کے اثرات کی وجہ سے پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اور یہ صورتحال خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر بوجھ پڑا ہے، مگر اس کا سبب بھی عالمی حالات ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد قیمتیں کم ہو جائیں گی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔