امریکا میں ایران سے متعلق ممکنہ عسکری اقدامات کے تناظر میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے۔
شومر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ امریکی عوام کو بغیر واضح حکمتِ عملی اور مقصد کے ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہے ہیں جسے وہ “غیر قانونی اور مہنگی” قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں مزید فوجی کارروائیاں ملک میں معاشی دباؤ اور سیاسی افراتفری کو بڑھا سکتی ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ ڈیموکریٹس اس ہفتے دوبارہ “وار پاورز ریزولوشن” پر ووٹنگ کرائیں گے تاکہ ایران کے خلاف کسی بھی طویل فوجی کارروائی کو کانگریس کی اجازت کے بغیر روک کر امریکی فوج کو واپس بلایا جا سکے۔
یہ قانون امریکی کانگریس میں اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ صدر کو طویل جنگیں شروع کرنے یا جاری رکھنے کے لیے محدود کیا جائے، اور عام طور پر 60 دن کے اندر کانگریس کی منظوری لازمی ہو جاتی ہے۔تاہم یہ قرارداد اب تک کئی بار ناکام ہو چکی ہے کیونکہ United States Congress میں ریپبلکنز کی اکثریت ہے اور ووٹنگ اکثر پارٹی لائن پر تقسیم ہو جاتی ہے، جس سے ڈیموکریٹس کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں۔