وائٹ ہاؤس نے امریکی ٹیکنالوجی اور کاروباری دنیا کی اہم شخصیات کو صدر ٹرمپ کے آئندہ دورۂ چین میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، جسے امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وفد میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑے نام شامل ہوں گے، جن میں ایلون مسک اور ٹم کک بھی شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق اس وفد میں امریکا کی بڑی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے اعلیٰ رہنما بھی شریک ہوں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفد میں جین فریزر، لیری فنک سمیت دیگر اہم کاروباری شخصیات بھی شامل ہوں گی۔ مجموعی طور پر ایک درجن سے زائد اعلیٰ کاروباری رہنما صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین کا دورہ کریں گے۔امریکی میڈیا کے مطابق اس دورے کا مقصد بیجنگ کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے نئے معاہدوں پر بات چیت کرنا ہے۔ کمپنیوں کو امید ہے کہ اس دورے کے دوران اقتصادی تعاون اور مارکیٹ تک رسائی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے بھی متوقع ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری کی ایک نئی کوشش ہو سکتا ہے۔