آئندہ دس برسوں میں اسرائیل کو امریکی فوجی مالی امداد پر انحصار سے آزاد کرنا چاہتے ہیں،عسکری تعاون جاری رہے گا
تل ایب (آئی این پی ) اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ آئندہ دس برسوں میں اسرائیل کو امریکی فوجی مالی امداد پر انحصار سے آزاد کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے درمیان عسکری تعاون جاری رہے گا، تاہم مالی امداد کو بتدریج صفر تک لانا ان کا ہدف ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اب امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کرکے خود کفیل بننے کی جانب بڑھنا چاہیے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ وہ امریکا کی جانب سے ملنے والی مالی عسکری امداد کو مرحلہ وار ختم کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا، میں چاہتا ہوں کہ امریکا کی مالی مدد، جو ہمارے فوجی تعاون کا حصہ ہے، اسے صفر تک لے جایا جائے۔نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل کو ہر سال امریکا سے تقریبا 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد ملتی ہے، جبکہ امریکا 2018 سے 2028 تک اسرائیل کو مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر دینے پر متفق ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان مالی تعلقات کو نئے انداز میں دیکھا جائے۔انہوں نے کہا، میں اگلی امریکی کانگریس کا انتظار نہیں کرنا چاہتا، میں یہ عمل ابھی شروع کرنا چاہتا ہوں۔ایرانی حکومت کے ممکنہ خاتمے سے متعلق سوال پر نیتن یاہو نے کہا کہ اگر ایران کا موجودہ نظام کمزور یا ختم ہوگیا تو حزب اللہ، حماس اور حوثی گروپ بھی شدید متاثر ہوں گے کیونکہ یہ پورا نیٹ ورک ایران کے سہارے قائم ہے۔انہوں نے کہا، کیا ایرانی حکومت کا خاتمہ ممکن ہے؟ جی ہاں۔ کیا یہ یقینی ہے؟ نہیں۔ادھررپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز کے بعد امریکا میں اسرائیل کے لیے حمایت میں کمی دیکھی گئی ہے