حزب اللہ کا اسرائیلی فوجیوں پر ڈرون حملے کا دعوی ،لبنان میں اسرائیلی کیمیکل بموں کا استعمال، ،سرجن ڈاکٹر طاہر محمد
بیروت،تل ابیب(آئی این پی )لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں شدت آگئی ، تازہ حملوں میں دو طبی اہلکاروں سمیت مزید 3 افراد شہید ہوگئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں ہونے والی بمباری سے کم از کم 51 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ لبنان کی سرحد کے قریب جھرپ میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا۔عرب میڈیارپورٹس کے مطابق لبنانی وزارتِ صحت نے بتایاہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے علاقوں قلاویہ اور تبنین میں طبی مراکز اور امدادی ٹیموں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ وزارتِ صحت نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ طبی عملے پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجیوں پر ڈرون حملے کرنے کا دعوی کیا ہے۔ادھر اسرائیلی فوج نے اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اسرائیل کے مطابق یہ فوجی لبنان کی سرحد کے قریب ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا۔اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 47 سالہ الیگزینڈر گلووانیو فوجی گاڑی کا ڈرائیور تھا اور وہ اتوار کے روز ہلاک ہوا۔رپورٹس کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو تین ہفتے گزر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں ملک بھر میں 2 ہزار 846 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران کم از کم 103 لبنانی طبی کارکن جاںبحق جبکہ 230 زخمی ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا کہ طبی عملے اور ریسکیو ٹیموں پر 130 سے زائد حملے کیے گئے۔جنوبی لبنان کے شہر صور میں سول ڈیفنس کے سربراہ علی صفی الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکن ہر لمحہ اپنی جان کے خطرے میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد بھی امدادی سرگرمیاں جاری رکھنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2 مارچ سے جاری حملوں کے باعث 12 لاکھ سے زائد لبنانی شہری بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں تباہی کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی حملوں کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے متعلق تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق جنگی سرجن ڈاکٹر طاہر محمد نے کہا ہے کہ اسرائیلی بموں سے نکلنے والے مہلک دھاتی ذرات لبنان میں زخمی ہونے والے شہریوں کے جسموں سے بھی برآمد ہو رہے ہیں، جو اس سے قبل غزہ میں شدید اندرونی زخموں کا سبب بن چکے ہیں۔سرجن ڈاکٹر طاہر محمد نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے زخمیوں کے جسموں سے باریک دھاتی ذرات برآمد ہوئے ہیں، جو دھماکے کے بعد جسم کے اندر پھیل کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ننھے ٹنگسٹن کیوبز اسرائیلی بموں سے خارج ہوتے ہیں اور انسانی جسم میں داخل ہو کر اعضا کو بری طرح متاثر کرتے ہیں، جس کے باعث زخمیوں کا علاج انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر طاہر محمد کے مطابق یہی دھاتی ذرات اس سے قبل غزہ میں بھی شہریوں کے جسموں میں پائے گئے تھے، جہاں ان کے باعث تباہ کن اندرونی زخم سامنے آئے۔انہوں نے اسرائیلی ہتھیاروں کو اندھا دھند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ہتھیار عام شہریوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید دعوی کیا کہ اسرائیل غزہ اور لبنان میں بھی ایسے بم استعمال کر چکا ہے جن کے اثرات انسانی جسم پر نہایت مہلک ہوتے ہیں۔