’یوم تشکر‘

راحیلہ رحمان
الحمداللہ 10 مئی 2025 پاکستانی تاریخ کا تابناک روشن دن بن چکا ہے،ہر پاکستانی کا دل خوشی سے سرشار ہے، مبارکباد کی صدائیں ہر طرف مسکراہٹیں بکھیر رہی ہیں، امت مسلمہ اس رب کے حضور سربسجود ہے جس نے ہماری ماضی کے غفلتوں کے باوجود ہمیں فتح و کامرانی نصیب کی، ہمارا مورال بلند کیا ہماری مدد فرمائی، دشمن کو ہم پر غالب نہ ہونے دیا۔آج کی تمام خوشیاں گزرے ہوئے کل کی مرہون منت ہیں، جب نماز فجر کے بعد نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی اور ’’بنیان مرصوص ‘ ‘ کی صورت ا امت مسلمہ کی نصرت کا آغاز ہوا ،یہ جنگ واقعی اسلام و کفر کی جنگ ثابت ہوئی، کافر نے ہر وہ کام کیا جو ہمارے جنگی اصولوں کیخلاف تھا، فخر ہے ہمیں اپنی فوج پر کہ صبر کا دامن نہ چھوڑا اور قران و سنت کی مکمل پاسداری کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا "دشمن سے ملاقات( یعنی جنگ )کی تمنا نہ کرو اللہ سے عافیت مانگو لیکن جب آمنا سامنا ہو جائے تو صبر کرو (یعنی ڈٹ جاؤ) ‘ ‘الحمدللہ ہم نے اپنا موثر اور بھرپور دفاع کر تے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ ہ وسلم لشکر روانہ کرتے وقت باقاعدہ ہدایت کرتے کہ عورتوں بچوں اور عبادت میں مصروف افراد کو نہ مارا جائے۔اور الحمدللہ ہماری جانب سے دشمن کے کسی عورت ، بچے اور مظلوم کو نقصان نہیں پہنچا جبکہ انڈیا نے حملے میں نہ صرف پہل کی بلکہ 31 افراد جس میں بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ تھی شہید کر دیا مگر ہم نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ "جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم پر حملہ کرنے جاتے تو رات کے وقت حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے اگر اذان سن لیتے تو حملہ روک دیتے اور اگر اذان نہ سنتیتوصبح کے بعد حملہ کرتے ‘ ‘اسی سنت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے سپہ سالاراورجنگجو مجاہدین نے نماز فجر کے بعد تکبیر بلند کی اور جوابی حملے کا آغاز کیا۔ شکر ہے اس پروردگار کا جس نے ہمیں ڈگمگانے نہ دیا اور دنیا کو پیغام ملا کہ ہم ڈرنے جھکنے یا بھاگنے والے نہیں بلکہ جان ہتھیلی پہ رکھ کر دشمن کی صفوں میں گھس جانے والے مجاہدین ہیں، ہمارا بچہ بچہ شہادت کی تمنا رکھتا ہے جہاد کے لیے تیار ہے ہم ایٹمی طاقت سے مالا مال ، جذبہ ایمانی سے سرشار ہیں، دشمن کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بات کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، حریف کو اپنے سامنے جھکانے اور بڑی سے بڑی طاقت کو مغلوب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، ہم 313 بدری مجاہدین کے لشکر کا عکس ہیں جنہوں نے جذبہ ایمانی سے ہزاروں کے لشکر کو شکست دی۔باوجود ان سب اطمینان بخش حالات کے ایک کمی ہے جس کا مجھے شدت سے احساس ہو رہا ہے بالکل اس طرح جیسے کوئی شخص اپنی دیرینہ کامیابی پر ان ہستیوں کو یاد کرتا ہے جس نے اسے اس مقام پر پہنچانے کے لیے تگ و دو کی ہو، قربانیاں دی ہوں، مشکلات سہی ہوں، دعائیں کی ہوں مگر جب حقیقی کامیابی ملنے کا وقت آئے تو وہ دنیا میں موجود نہ ہوں، انکی یاد دل چیر دیتی ہے۔ اسی طرح آج ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کمی مجھے شدت سے محسوس ہو رہی ہے جن کی مہربانیوں کیطفیل آج قسمت ہم پر مہربا ن ہوئی، جنکی بدولت ہم دشمن کا شکرے کی طرح شکار کر پائے ہیں جن کی محنتوں کا ثمرآج پاکستان کی جھولی میں آگرا ہے، جنکی بدولت ہم ایٹمی طاقت ہیں اور دشمن کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکار سکے ہیں۔جن کی بدولت آج دشمن ہمارے سامنے ہاتھ جوڑنے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا۔ کاش آج وہ ہوتے تواپنی محنت کا ثمر اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتے ،تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ صرف دنیا میں ہی نہیں یہ کمی تو مجھے اپنے میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلزپر شدت سے محسوس ہوئی، کامیابی کے پیچھے چھپے اس نام کی کمی ہرچینل پر پائی گئی ان کو خراج تحسین پیش کرنے والا نہ کوئی اینکر نظر ایا، نہ کسی نیوز کاسٹر نے ان کا تذکرہ کیا، نہ کسی حکومتی عہدے دار نے محسن پاکستان کے احسان کو سراہا اور نہ ہی کسی طرح ان کے نام کو زندہ کرنے اور شکریہ ادا کرنے کی کوشش کی گئی۔ افسوس صد افسوس ابھی تو محض تین سال کا قلیل عرصہ گذرا ہے اور ان کے نام کی پکار ماند پڑگئی آخر کیوں؟۔میری ارباب اختیارات سے گذارش ہے کہ ایسا نہ کریں ہماری آنے والی نسلوں کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اگاہی دیں تاکہ وہ ان کے جیسا بننے میں فخر محسوس کریں، اور وطن عزیز کی ترقی میں معاون کردار ادا کریں۔ آج ڈاکٹر صاحب کی تصویر پر نظر پڑی تو یوں محسوس ہوا جیسے وہ کہہ رہے ہوں۔۔۔۔
ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں
 ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے