بی پی ایل بدعنوانی کا شکار، اسپاٹ فکسنگ کے 140 مشتبہ واقعات رپورٹ

بی پی ایل بدعنوانی کا شکار، اسپاٹ فکسنگ کے 140 مشتبہ واقعات رپورٹ

بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) اس وقت اسپاٹ فکسنگ کے سنگین الزامات کی زد میں ہے، اور گزشتہ پانچ سیزنز میں تقریباً 140 مشتبہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

 ان واقعات میں 60 سے زائد مقامی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو تحقیقات کے دائرے میں لایا گیا ہے، جن میں سے کچھ فرنچائزز کے عہدیدار اور کھلاڑی بھی براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔ تازہ ترین سیزن میں 36 مشتبہ واقعات کا پتہ چلا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لیگ میں بدعنوانی کی سطح بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔بی پی ایل بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اور واحد ٹی 20 کرکٹ لیگ ہے، جس کی بین الاقوامی کرکٹ میں اہمیت ہے، لیکن اس پر اسپاٹ فکسنگ اور دیگر بدعنوانیوں کے الزامات بھی بہت زیادہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بین الاقوامی قانونی بیٹنگ مارکیٹس میں ہر بی پی ایل میچ پر تقریباً 50 سے 60 لاکھ امریکی ڈالرز کی بیٹنگ کی جاتی ہے، جبکہ غیر قانونی بیٹنگ مارکیٹس میں یہ رقم 5 سے 6 کروڑ ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، جو اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ لیگ میں کرپشن کا خطرہ انتہائی بلند ہو چکا ہے۔بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی اینٹی کرپشن یونٹ ہر سال بدعنوانی کے مشتبہ واقعات کی فہرست بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو فراہم کرتی ہے، تاہم اب تک کسی بھی سیزن میں مؤثر کارروائی نہیں کی گئی ہے، سوائے 2013 کے سیزن کے۔ اس کمزور ردِعمل کے باعث، بی پی ایل کو دنیا کی سب سے کرپٹ کرکٹ لیگ کا لقب حاصل ہو چکا ہے۔

موجودہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے اس بار اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایک تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی سابق جسٹس مرزا حسین حیدر کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں بین الاقوامی قانونی ماہر ڈاکٹر خالد ایچ چوہدری اور سابق کرکٹر شکیل قاسم شامل ہیں۔ اس کمیٹی نے گزشتہ تین ماہ کے دوران 50 سے زائد افراد سے بیانات قلمبند کیے ہیں، جن میں کھلاڑی، کوچز اور فرنچائز آفیشلز شامل ہیں۔تحقیقات کے دوران کمیٹی کو شواہد کی کمی، گواہوں کی عدم دستیابی اور کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ کی مدد کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں مشتبہ کھلاڑیوں، عہدیداروں اور فرنچائزز کی فہرست کے ساتھ ساتھ سفارشات بھی شامل ہوں گی، جن میں بین الاقوامی اداروں کی مدد حاصل کرنے اور لیگ کی اینٹی کرپشن پالیسی کو مزید مضبوط کرنے کی تجاویز شامل ہوں گی۔اگر اس معاملے میں آئی سی سی یا دیگر بین الاقوامی ادارے شامل ہوئے، تو مکمل تحقیقات میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے بی پی ایل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کے مستقبل کے لیے خطرات کی علامت بن سکتی ہے۔