کراچی (ویب ڈیسک): پاک بھارت حالیہ تصادم کے بعد سیز فائر کی صورتحال نے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں، جس کا عملی مظاہرہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دیکھنے کو ملا ہے۔
پیر کے روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے کو ملی۔ مارکیٹ کھلتے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگیا اور 100 انڈیکس میں 9 ہزار 900 پوائنٹس کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس غیر معمولی اضافے کے بعد 100 انڈیکس 1 لاکھ 17 ہزار 100 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم، انڈیکس میں 5 فیصد اضافے کے بعد کاروبار کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔اس سے پہلے جمعہ کے روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 1 لاکھ 7 ہزار 174 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جو سیز فائر کے بعد کی صورتحال میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیز فائر کے بعد کی صورتحال کو سرمایہ کاروں نے مثبت طور پر لیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں بھرپور سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مارکیٹ کا حجم بڑھا بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی حوصلہ افزا اشارے سامنے آئے ہیں۔
سیاسی کشیدگی میں کمی کی توقعات
مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر خطے میں سیاسی کشیدگی کم ہوتی رہی تو اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا یہ رجحان آئندہ دنوں میں مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملکی معیشت کے حوالے سے بھی بہتر نتائج کی امید ہے۔
ڈالر کی قیمت میں کمی
دوسری جانب، انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 30 پیسے کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے بعد ڈالر کی قیمت 281.40 روپے کی سطح پر آ گئی۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں معمولی بہتری آئی ہے، تاہم فاریکس مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں کمی مرکزی بینک کی پالیسی، درآمدات میں کمی اور ترسیلات زر میں بہتری کے اثرات کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ یہ اقدامات پاکستانی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں اور معیشت کے استحکام کی جانب ایک مثبت قدم ہیں۔اس تمام صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیز فائر اور اس کے بعد کی بہتر سیاسی اور معاشی صورتحال پاکستان کے اقتصادی اشاریوں میں بہتری لانے کی وجہ بن رہی ہے۔