مذاکرات 15 مئی کو استنبول میں شروع ہوں گے، یوکرین کیساتھ مذاکرات کو کبھی مسترد نہیں کیا،صدر پیوٹن
ماسکو؍استنبول؍برسلز (آئی این پی ) روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اختتام ہو گیا جس کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کو براہ راست مذاکرات کی نئی پیشکش کر دی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر پیوٹن نے کہا دونوں ممالک کے مابین براہ راست مذاکرات 15 مئی کو استنبول میں شروع ہوں گے، اور کوئی پیشگی شرط عائد نہیں کی جائے گی، یوکرین کیساتھ مذاکرات کو کبھی مسترد نہیں کیا، سنجیدہ مذاکرات چاہتے ہیں۔پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ روس مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے، تاہم یہ اسی صورت ممکن ہے جب دونوں فریقین سنجیدگی کے ساتھ بات چیت پر آمادہ ہوں۔فیصلہ اب یوکرین کو کرنا ہے، تنازعات کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب ترک حکام نے بھی مذاکرات کی میزبانی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک بار پھر روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ترک وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاہمیں امید ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور انسانی جانوں کے تحفظ کا ذریعہ بنیں گے۔دریں اثناء یورپی رہنمائوں نے یوکرین میں 30 روزہ جنگ بندی کے لیے امریکی منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے روس کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کے خلاف بڑی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔