تہران: ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران معاشی استحکام، عوامی فلاح، قومی اتحاد، پائیدار سکیورٹی اور ملکی مفادات کے تحفظ کو اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔
ایرانی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں فوجی ضروریات کے ساتھ عوام کی بنیادی سہولتوں اور ملکی معیشت کو مستحکم رکھنا بھی ضروری ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سپریم لیڈر نے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژه ای اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ملک کی موجودہ صورت حال، معاشی چیلنجز، قومی سلامتی اور عوامی ضروریات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
معاشی استحکام اور عوامی ضروریات پر توجہ
صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران عوام کی بنیادی ضروریات، جنگ کے معاشی اثرات، فوجی صورت حال، روزگار، رہائش اور بیرونی اقتصادی تعلقات پر گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ ملکی کرنسی، زرمبادلہ کے انتظام اور توانائی کے وسائل کے بہتر استعمال سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئے۔موجودہ حالات میں ایران کو ایک طرف سکیورٹی اور دفاعی ضروریات کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب معیشت کو مستحکم رکھنے اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔سپریم لیڈر کی جانب سے معاشی استحکام پر زور کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ جنگ کے دوران عوامی اخراجات، روزگار اور توانائی کی فراہمی جیسے معاملات حکومت کے لیے اہم چیلنجز بن سکتے ہیں۔
گیس اور بجلی کی فراہمی بہتر بنانے پر زور
ملاقات میں صدر مسعود پزشکیان نے توانائی کے استعمال میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سردیوں کے موسم میں گیس اور بجلی کی بندش سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہییں۔ایران کے لیے توانائی کے وسائل کا بہتر انتظام اہم ہے، کیونکہ بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی گھریلو صارفین، صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ توانائی کے شعبے میں بہتر منصوبہ بندی سے عوامی مشکلات کم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
قومی اتحاد اور پائیدار سکیورٹی کی اہمیت
ایرانی سپریم لیڈر نے قومی اتحاد اور پائیدار سکیورٹی کو بھی ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔ موجودہ جنگی صورت حال میں قومی اداروں کے درمیان رابطے، حکومتی پالیسیوں میں ہم آہنگی اور عوام کی بنیادی ضروریات پر توجہ اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔سپریم لیڈر کی مختلف اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں میں ملک کے انتظامی، عدالتی، پارلیمانی اور سکیورٹی معاملات پر گفتگو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ایرانی قیادت مختلف شعبوں کے درمیان رابطے کو اہمیت دے رہی ہے۔
ملکی مفادات کا تحفظ اہم ترجیح
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق قیادت کی جانب سے معاشی استحکام، عوامی فلاح، قومی اتحاد اور سکیورٹی کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہداف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان ترجیحات کے تحت عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے، توانائی کے وسائل کا بہتر استعمال کرنے اور بیرونی اقتصادی تعلقات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے پر توجہ دی جارہی ہے۔