سوشل میڈیا پر نئے فراڈ کا آغاز

 ندیم ملک

 عام ہے آئے دن کوئی نہ کوئی اس کا شکار ہوتا ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کا ابھی تک کوئی صدِ باب نہیں ہوسکا  حکومتِ پاکستان اس کے پیچھے چھپے فراڈیوں کو پکڑنے میں ناکام ہیں ابھی تک کوئی فراڈیہ کسی ادارے کی گرفت میں نہیں آسکا معصوم عوام ان فراڈیوں کے ہاتھ آئے دن لٹ رہے ہیں جبکہ یہ فراڈیے عوام کو مزے سے ساتھ لوٹ رہے ہیں اس کے محرکات یہی ہیں کہ ابھی تک کوئی شخص کسی ادارے کے ہاتھ نہیں لگا اس لیے ان  فراڈیوں کا یہ مکروہ دھندہ پورے زوروں سے چل رہا ہے دورِ جدیدیت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے ہر کام سوشل میڈیا پر تواتر سے جاری ہے ایک دور ایسا تھا جب چوری چھپے کام ہوتے تھے تاریخ گواہ ہے بلکہ تاریخ اس بات کی گواہی دے رہی ہے جب بھی تاریخی کتب کی ورق گردانی کی جائے نئی نئی داستانیں پڑھنے کو ملتی ہیں جنرل ضیا الحق کے دور میں جب ٹیکسالی گیٹ لاہور  میں موجود فحاشی کے اڈوں پر سخت نوٹس لیا گیا وقتی طور پر وہ لوگ اور اس کو چلانے والی حسینائیں دلال وہاں سے کوچ کر گئی کچھ نے جگہ تبدیل کی تو کچھ نے تھوڑی دوری پر اپنا  مکروہ دھندہ چوری چھپے  جاری رکھا آج بھی یہ مکروہ دھندہ  لاہور کے علاوہ مختلف علاقوں میں عروج پر ہے  لاہور میں جس طرف بھی رخ کیا جائے کوئی نہ کوئی چکلہ اور اس کو چلانے والا مافیا دیکھنے کو ملتا ہے اتفاق سے میرا شیخوپورہ کی حدود میں سے گزر ہوا یہ جگہ (پھلاں والی منڈی)پھول والی منڈی کے نام سے  مشہور ہے اس نالے کے پچھلی گلی سے گزر ہوا اس جگہ نوجوان لڑکیوں کا جمِ غفیر دیکھنے کو ملا میں نے ٹیکسالی گیٹ کی ایک اگلی میں اتفاق سے یہی صورتحال دیکھی تھی لیکن دونوں میں یکساں فرق تھا ہیرا منڈی میں لڑکیاں گاہکوں کو اشارے سے اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں جب کہ پھول منڈی میں پیشہ کرنے والی لڑکیاں خود چل کر سڑکوں سے گاہک تلاش کرکے لیجاتی ہیں میں  اگلے اسی جگہ پہنچا اور اس اڈے کو چلانے والے ایک شخص سے ملاقات کی جس نے انکشاف کیا کہ یہاں کی پولیس اور صحافی مجھ سے ماہانہ پیسے لیتے ہیں یہ اس شرط پر دیے جاتے ہیں کہ پولیس ہمیں اور ہمارے گاہکوں کے لیے وبال جاں نہ بنیں صحافت کا پیشہ ایسا پیشہ ہے جس میں پہلا اصول آوازِ حق ہے خیر میرا آج کا کالم سوشل میڈیا پر ہونے والے فراڈ اور فحاشی پر ہے تو میں یہاں ذکر کرتا چلوں کہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو طرح طرح سے بلیک میل کیا جاتا ہے اور ان سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں جسم کی ہوس بْجھانے کے چکر میں لوگ اس مافیا کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جس کا اِزالہ انھیں ساری عمر بھگتنا پڑتا ہے میں اس بات کا بچشمِ خود گواہ ہوں کہ میرا ایک دوست ہے جس نے سوشل میڈیا پر  ایک فیک آئیڈی سے گفتگو کی اس آئیڈی کے پیچھے ایک عورت تھی جو مختلف عورتوں کے اسٹیٹس لگا کر لوگوں کی توجہ کھینچتی تھی جو اس کے جال میں پھنستا وہی برباد ہوتا اس کے پیسے اور  قیمتی وقت  دونوں تباہ ہوتے اس نے انکشاف کیا کہ اس  عورت نے ایک نمبر دیا جس میں سب سے پہلے  مجھ سے 2200 روپے مانگے گئے یہ پیسے تعلقات کے آغاز پر ادا کرنے تھے پھر 
800 مینجر کی فیس اس کے علاوہ 900 اس کی فائل فیس تھی جو وہ ادا کر چکا تھا جب کہ 1500 روپے کا دوبارہ تقاضا کیا گیا جس پر میری عقل کی چھٹی حس نے کام کیا تو سمجھ آیا مجھ سے فراڈ ہو رہا ہے جب اس معاملے کا علم مجھے ہوا تو میں نے متعلقہ پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا اور اس کا نام پتہ نکلوایا تو معلوم ہوا جو عورت اپنا پتہ لاہور کے کسی علاقے سے   بتا رہی تھی اس کا تعلق سوات سے ہے اس کا اصل نام جنت گل ہے میں نے عورت سے رابطہ کیا تو اس عورت نے بتایا میرا شوہر کسی تھانے میں ایس ایچ او ہے مجھے یہ بات سن کر سکتہ طاری ہوگیا میں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے اپنے شوہر کا نمبر بھیجے تو اس نے مجھے فور طور پر بلاک کر دیا  ایسا وہ کتنوں کے ساتھ کر چکی ہے خدا جانتا ہے سوشل میڈیا ایسے فراڈیوں سے بھرا پڑا ہے انسٹاگرام ،ٹک ٹاک، پر لوگ فیک اکاونٹ بنا کر اپنا دھندہ کر رہے ہیں جبکہ سائبر کرائم کی طرف سے کوئی کارروائی دیکھنے کو نہیں مل رہی یہ سائبر کرائم جیسے بڑے ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے حکومتِ پاکستان اس مکرہ دھندے میں ملوث مافیاز کے خلاف عملی کاروائی کرنے میں ناکام ہے خدارا اس طرف بھی توجہ دیں تاکہ عوام  اس مافیاز کے ہاتھوں  لٹنے سے محفوظ رہ سکیں