اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت ہرجانہ کیس میں اہم آئینی و قانونی فیصلہ سناتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست اکثریتی طور پر منظور کر لی ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم ہے اور کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیج دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے سابقہ تمام فیصلے کالعدم قرار دیے جاتے ہیں، جبکہ ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنا دفاع پیش کرنے کا مکمل اور مناسب موقع فراہم کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ دفاع کا حق مکمل طور پر بحال کیا جاتا ہے اور ٹرائل کورٹ جوابات جمع ہونے کے بعد کیس کو قانون کے مطابق آگے بڑھائے۔عدالتی کارروائی میں اکثریتی رائے جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے دی، جنہوں نے قرار دیا کہ حقِ دفاع ختم کرنا درست نہیں تھا اور فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ دوسری جانب جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے اختلافی نوٹ جاری کیا جس میں انہوں نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کیس کے طویل التوا اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر سخت ریمارکس دیے۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ 2017 میں دائر کیا گیا تھا، مگر جواب جمع کرانے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔