اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع پر قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کی منظوری وفاقی حکومت نے دی ہے۔
سیکرٹریٹ ذرائع کے مطابق یہ الزام بے بنیاد ہے کہ اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ نے خود سے اپنی تنخواہیں بڑھائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہوں اور مراعات میں ترمیم کا اختیار صرف وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ کے پاس ہوتا ہے، پارلیمنٹ سیکرٹریٹ اس بارے میں کوئی آزاد فیصلہ سازی کا اختیار نہیں رکھتا۔تفصیلات کے مطابق، وزارتِ پارلیمانی امور نے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کی منظوری وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی۔ یہ منظوری باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت دی گئی اور اسے "اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں و مراعات ایکٹ" میں ترمیم کے ذریعے نافذ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے کی اطلاعات کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بلا جواز تنقید کی جا رہی ہے، حالانکہ تمام قانونی و آئینی ضوابط کی پیروی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ موجودہ مہنگائی اور مالی بحران کے تناظر میں اس اقدام پر سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جس کے جواب میں سیکرٹریٹ نے وضاحت دی ہے تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔