ویب ڈیسک : دنیا بھر میں آج 12 جون کو چائلڈ لیبر کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد بچوں کو جبری مشقت سے نجات دلانا اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
تاہم پاکستان میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جہاں غربت، بیروزگاری اور قانون پر عملدرآمد کی کمی چائلڈ لیبر میں اضافے کا سبب بنی ہوئی ہے۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر کی سنگین صورتحال
ملک میں چائلڈ لیبر کی مجموعی شرح 16.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔پنجاب میں یہ شرح 14 فیصد کے قریب ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد بچے مختلف شعبوں میں مزدوری پر مجبور ہیں، جن میں سے بڑی تعداد گھریلو ملازمتوں، ورکشاپس، ہوٹلوں اور کھیتوں میں کام کر رہی ہے۔
ماہرین اور عالمی اداروں کی رائے
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے مطابق:"چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے بیروزگاری کا خاتمہ، تعلیم تک رسائی اور مؤثر سوشل پروٹیکشن کا نظام ضروری ہے۔"ماہرین نے گھریلو ملازمت میں بچوں سے مزدوری کو سب سے خطرناک اور نظر انداز شدہ شعبہ قرار دیا ہے، جہاں بچوں کو جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکومتی اقدامات ناکافی قرار
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر حکومت چائلڈ لیبر کے خاتمے کا اعلان کرتی رہی ہے، لیکن عملی اقدامات اور مؤثر پالیسیوں کی شدید کمی ہے، جس کے باعث بچہ مزدوری میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کمزور ہے اور بہت سے بچے اب بھی اسکولوں کے بجائے فیکٹریوں، بازاروں اور گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔
سوشل ورکرز اور انسانی حقوق کے اداروں کا مطالبہ
چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے
بچوں کی تعلیم مفت اور لازمی بنائی جائے
والدین کو معاشی مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کو کام پر نہ لگائیں
بچوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ تعلیم، کھیل اور تربیت میں وقت گزار سکیں