وزیر اعلیٰ کے پی کے کا عشائیہ ،ارکان اسمبلی کی شرکت،احتجاج کے حوالے سے تحفظات اور گلے شکوے

تحریک کی تیاری پی ٹی آئی کی آج بڑی بیٹھک
 پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس لاہور میں ہو رہا ہر بار احتجاج میں خیبر پختونخوا کے ورکرز کو ایندھن بنایا جاتا ہے اس بار پنجاب اور اسلام آباد کو بھی باہر نکلنا چاہیے.اجلاس میں راہنماں کے شکوے، حالات نامناسب، قاسم اور سلیمان نہیں آئیں گے:شیرافضل مروت
لاہور(خصوصی رپورٹ)پی ٹی آئی نے 5اگست کو احتجاج کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ہفتہ کے روز لاہور میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس گزشتہ شب وزیراعلی ہاو س پشاور میں ہوا جس میں ارکان اسمبلی نے شرکت کی وزیراعلیٰ کی جانب سے ارکان اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا .پی ٹی آئی ذرائع کے مطاق اجلاس میں سینیٹ الیکشن اور 5 اگست کو احتجاج کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا گیا، اجلاس میں ارکان کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ ہر بار احتجاج میں خیبر پختونخوا کے ورکرز کو ایندھن بنایا جاتا ہے اس بار پنجاب اور اسلام آباد کو بھی باہر نکلنا چاہیے. ذرائع کے مطابق احتجاج کے لائحہ عمل کے حوالے سے پورے پاکستان سے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو لاہور میں آج ہفتے کے روز طلب کرلیا گیا ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ بعض ارکان اسمبلی نے انکشاف کیا کہ اپوزیشن کے بعض امیدوار ووٹ کے لیے ان سے رابطے کر رہے ہیں اور پیسوں کی بھی آفر کی جا رہی ہے، جس پر وزیراعلی نے نوٹس لیتے ہوئے ارکان کو ہدایت کی کہ انھیں اس حوالے سے باخبر رکھا جائے.اس حوالے سے ترجمان پی ٹی آئی ملک عدیل نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں احتجاج کے حوالے سے مشاورت کی گئی، اجلاس میں ارکان سے پوچھا گیا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسوں کی آفر تو نہیں ہو رہی، وزیراعلی کی ہدایت ہے کہ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے انھیں باخبر رکھا جائے احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، لاہور میں ہونے والے اجلاس میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا، قیادت نے جو حکم دیا اسی پر عمل کیا جائے گا. رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ مجھے علم ہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان نہیں آئیں گے، اس وقت حالات احتجاج کیلئے بالکل نامناسب ہیں ایک انٹرویو میں شیرافضل مروت نے کہا کہ پارٹی راہنمائو ں کو عمران خان کے بیٹوں پر رحم کرنا چاہیے، پی ٹی آئی کا ہر لیڈر کہہ رہا ہے قاسم اور سلیمان تحریک جوائن کریں گے، پی ٹی آئی لیڈر اس طرح کی باتیں کرکے کارکنوں کو امید دلا رہے ہیں۔شیرافضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ورکر عمران خان کو لیڈر مانتا ہے، رشتہ دار لیڈر نہیں ہوسکتے، عمران خان کے بچوں کو اس بات پر جھونکا جارہا ہے کہ لوگ زیادہ آئیں گے تو ان کی اپروچ غلط ہے انہوں نے کہا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے اس وقت حالات احتجاج کیلئے بالکل نامناسب ہیں، میں نہیں دیکھ رہا کہ احتجاج ہوگا اور لوگ نکلیں گے۔ شیرافضل نے کہا کہ آنے والا محرم بھی گزر جائیگا، پی ٹی آئی رہنما ہسپتالوں میں لیٹ گئے ہیں، پی ٹی آئی رہنما بیمار پڑنا شروع ہوگئے ہیں، ان سے تحریک کی توقع نہیں ہے انہوں نے کہا عمران خان کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دی جاتی ہے حقیقت نہیں بتائی جاتی، سابق وزیراعظم کو رپورٹ دی جاتی ہے کہ لوگ باہر نکلنے کیلئے دیوانے ہیں، انہیں حقیقت نہیں بتائی جاتی کہ ملک میں کیا ہورہا ہے، ورکر کی کیا پوزیشن ہے۔شیرافضل نے کہا کہ پی ٹی آئی راہنمائو ں نے قیادت کو خود مشکوک بنایا، سب کیخلاف فتوے دئیے، پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈرشپ میں کونسی ایسی شخصیت ہے جس کے پیچھے عوام ہے؟انہوں نے کہا کہ جب ان راہنمائوں کے پیچھے کوئی نکلنے کو تیار نہیں تو مزید ایسی کوئی مہم جوئی نہ کی جائے، اگر تحریک میں اسلام آباد نہیں جانا تو کیا چشمہ بیراج غوطے لگانے جانا ہے؟ تحریکوں میں اسلام آباد معنی رکھتا ہے اور یہی طاقت کا سرچشمہ ہے، میرے خیال سے یہ آخر میں انکشاف کریں گے کہ کوہاٹ میں دھرنا دینا ہے، اس وقت گرمی کا موسم ہے، جیلوں کے اندر بہت تپش ہے شیرافضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما عام پاکستانیوں کو باہر نکالنے میں ناکام ہوئے ہیں، ان کا خیال ہے کہ انقلاب ٹوئٹراور گالیوں کے ذریعے آئے گا۔