ویب ڈیسک: کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں مردہ پائی جانے والی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کے والد پہلی بار منظر عام پر آگئے، جنہوں نے بیٹی کی تدفین کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کی اور اہم وضاحتیں پیش کیں۔
گزشتہ روز اداکارہ حمیرا اصغر کو لاہور میں سپردِ خاک کر دیا گیا، اس موقع پر ان کے والد ڈاکٹر اصغر علی نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ:"میرے پاس اسمارٹ فون نہیں ہے، مجھے بیٹی کی موت اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق زیادہ معلومات نہیں، یہ سب میرے بیٹے کے پاس ہیں۔"انہوں نے بیٹی کی لاش وصول نہ کرنے کی خبروں کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا:"ہم میں سے کسی نے بھی لاش لینے سے انکار نہیں کیا، جب تک میڈیکل مکمل نہیں ہوتا، لاش ورثا کے حوالے نہیں کی جاتی۔"ایک سوال کے جواب میں کہ آیا بیٹی کے قتل کی تحقیقات ہونی چاہئیں، انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:"جو اللہ بہتر سمجھے گا وہی ہوگا۔"اس موقع پر حمیرا اصغر کے کزن نے بتایا کہ:"کچھ روز قبل ہماری والدہ کا انتقال ہوا، اسی وجہ سے ماموں گاؤں میں تھے اور صدمے کی حالت میں تھے۔"
موت کا معمہ: کیا واقعہ حادثہ تھا یا قتل؟
واضح رہے کہ اداکارہ کی لاش 8 جولائی کو ڈیفنس فیز 6 کے اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے ملی تھی۔ مالک مکان کرائے کی عدم ادائیگی پر عدالت گیا، جس کے بعد عدالتی بیلف فلیٹ پر پہنچا اور دروازہ توڑنے پر لاش ملی۔
پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق:
موت کو 8 سے 10 ماہ گزر چکے ہیں
لاش مکمل ڈی کمپوز ہو چکی تھی
جسم کے نچلے حصے کا گوشت مکمل طور پر ختم ہوچکا تھا
چہرہ ناقابلِ شناخت اور ناخن ہڈی سے جدا ہو چکے تھے
کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں ملی
حکام کے مطابق فزیکل معائنے سے زیادتی یا تشدد کا تعین ممکن نہیں جبکہ بال اور شرٹ کے نمونے کیمیکل تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گمشدگی کی پوسٹ اور لاپرواہی کے سوالات
اداکارہ کی سوشل میڈیا سرگرمیاں اکتوبر 2024 سے غائب تھیں۔ سوشل میڈیا پر 5 فروری 2025 کو گمشدگی کی پوسٹ شیئر کی گئی، جس پر بھی پولیس اور اہل خانہ کی جانب سے کوئی ٹھوس ایکشن نہ لینے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پولیس اور تفتیشی ادارے دباؤ میں
اداکارہ کی طویل گمشدگی، لاش کی ناقابلِ شناخت حالت اور ابتدائی شواہد کی غیر واضح صورتحال نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تفتیشی ادارے واقعے کی اصل حقیقت جاننے کے لیے جدید فارنزک طریقوں اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔