ویب ڈیسک: معروف ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر علی کے بھائی نوید اصغر نے میڈیا سے گفتگو میں وضاحت کی ہے کہ ان کے والد کی جانب سے لاش وصول نہ کرنے کی خبر کو غلط رنگ دیا گیا۔
نوید اصغر کے مطابق، حمیرا کا اہلخانہ سے ایک سال سے رابطہ نہیں تھا، وہ کہاں رہتی تھی یہ بھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔ والدہ کے بار بار پوچھنے پر بھی وہ اپنے قیام کی جگہ نہیں بتاتی تھیں۔نوید اصغر نے بتایا کہ اداکارہ کے موبائل بند تھے اور ان کی دوستوں سے بھی رابطہ کرنے پر کچھ پتا نہیں چل سکا۔ جب موت کی اطلاع ملی تو پورا خاندان صدمے میں چلا گیا۔والد کی جانب سے لاش وصول نہ کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ "جب والدہ کو پتا چلا کہ لاش کی حالت خراب ہے، تو انہوں نے شدید جذباتی ردعمل دیا، اسی ردعمل کی بنیاد پر والد نے عارضی طور پر انکار کیا، مگر اصل میں وہ لاش وصول کرنے کے خلاف نہیں تھے۔ میں خود والد کی اجازت سے لاش لینے کراچی آیا ہوں۔"
نوید اصغر نے مزید بتایا کہ حمیرا خود مختار تھی اور اپنی مرضی سے کراچی میں مقیم تھی۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس آنے کے بعد ایف آئی آر درج کروانے یا نہ کروانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک فلیٹ سے حمیرا اصغر کی لاش ملی تھی، جو گلنے سڑنے کے آخری مراحل میں تھی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم کے مطابق موت کو 8 سے 10 ماہ گزر چکے تھے۔