ویب ڈیسک : امریکہ کی وفاقی اپیل کورٹ نے 9/11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان سے امریکی حکومت کا رعایتی معاہدہ منسوخ کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف عدالتی تاریخ میں ایک نیا موڑ پیدا کیا بلکہ نائن الیون حملوں کے متاثرین کے خاندانوں میں ایک نئی بحث کو بھی جنم دے دیا ہے۔
معاہدہ کیا تھا؟
گزشتہ سال موسم گرما میں:خالد شیخ محمد اور دو دیگر ملزمان نے امریکی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اپنے خلاف تمام الزامات قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔اس معاہدے کے نتیجے میں انہیں ممکنہ طور پر سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا دی جاتی۔معاہدے میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ متاثرین کے اہل خانہ انہیں سوالات پوچھ سکتے تھے، اور وہ ایمانداری سے جواب دینے کے پابند ہوتے۔
عدالتی کارروائی اور فیصلہ
وفاقی حکومت نے اپیل کی کہ اگر معاہدے کے تحت ملزمان کی درخواستیں منظور کی گئیں تو یہ ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنے گا۔تین ججوں پر مشتمل بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔جج رابرٹ ولکنز نے فیصلے سے اختلاف کیا۔عدالت کا کہنا تھا کہ انہیں مقدمے پر مزید غور اور وقت درکار ہے، لیکن یہ فیصلہ مقدمے کی اہلیت پر اثر انداز نہیں ہوگا۔
متاثرین کے اہل خانہ کا ملا جلا ردِ عمل
کچھ متاثرین نے معاہدے کو انصاف کی طرف ایک قدم قرار دیا تھا۔جبکہ کچھ نے اسے ایک تکلیف دہ باب بند کرنے کی کوشش سمجھا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق متاثرین کو اس معاہدے کی پہلی بار اطلاع پراسیکیوٹرز کی جانب سے خط کے ذریعے دی گئی تھی۔
خالد شیخ محمد کا پس منظر
پیدائش: 14 اپریل 1965، کویت
خاندانی پس منظر: والد پاکستانی، مسجد کے پیش امام
تعلیم: نارتھ کیرولائنا ٹیکنیکل یونیورسٹی، مکینیکل انجینئرنگ
انتہا پسندی کی طرف رجحان: 1980 کی دہائی میں اخوان المسلمون میں شمولیت
اسامہ بن لادن سے ملاقات: 1987، افغانستان میں جنگِ جاجی کے دوران
بھتیجا رمزی یوسف: 1993 ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملے کا ماسٹر مائنڈ
9/11 حملوں میں کردار
خالد شیخ محمد کو 9/11 حملوں کا ماسٹر مائنڈ تصور کیا جاتا ہے۔انہوں نے گرفتاری کے بعد اپنی منصوبہ بندی، القاعدہ سے تعلق، اور امریکی اہداف پر حملوں کی تفصیلات تسلیم کیں۔وہ 2003 سے امریکی فوجی جیل گوانتاناموبے میں قید ہیں۔
کتابی حوالہ
ٹام میک ملن نے اپنی کتاب میں لکھا کہ 1993 کے حملے نے شدت پسندوں کو یہ باور کرایا کہ امریکی سرزمین پر حملہ ممکن ہے۔خالد شیخ محمد نے اسی سوچ کو بنیاد بنا کر نائن الیون جیسے حملے کی منصوبہ بندی کی۔