راولپنڈی میں عوامی رابطہ مہم کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے بھارت کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ سن لے، اگر یاسین ملک پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے اور بھارت دنیا کے نقشے پر باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اویسی صاحب کے بیانات اپنی جگہ، مگر یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نہ تو وینزویلا ہے اور نہ ہی بھارت امریکا ہے۔مشعال ملک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بے گناہ کشمیریوں کو قتل کیا گیا، لاکھوں خواتین بیوہ ہوئیں اور ان کی عزتیں پامال کی گئیں۔ ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک صرف کشمیریوں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کی ضمانت ہے، جبکہ بھارتی فوج نے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی اب صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں رہی بلکہ پہلگام سمیت دیگر علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ مشعال ملک کا الزام تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے اور بھارت اتنا بزدل ہے کہ کھل کر سامنے آنے کی ہمت نہیں رکھتا۔
مشعال ملک نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمت ہے تو مقبوضہ کشمیر کے چوک چوراہے میں آکر کھڑے ہو کر دیکھیں، وہاں عوام کا ردعمل یادگار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور 30 سال بعد انہیں جعلی دہشتگردی کے مقدمے میں سزا سنائی گئی۔انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر ایک غازی ہیں اور شہادت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ مشعال ملک کے مطابق جب بھی یاسین ملک، کشمیر کی تحریکِ آزادی یا پاکستان کا نام لیا جاتا ہے تو مودی اور اجیت ڈوول کے قدم لرزنے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کو بچانا ہے تو یاسین ملک کو بچانا ہوگا، کیونکہ وہ اللہ کے سپاہی ہیں۔
مشعال ملک نے دعویٰ کیا کہ معرکۂ حق میں بھارت کو بدترین شکست ہو چکی ہے اور 25 کروڑ کشمیری عوام آزادی کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیری سیاسی قیدیوں اور مجاہدوں سے خوف آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔