پی آئی اے ملازمین کا ایک سال بعد کارکردگی پرفیصلہ ہوگا

ایک سال خسارہ کیساتھ چلایا جائے گا، جسکے بعد کمپنی منافع میں آنے کی توقع 
 بزنس پلان کے تحت فلائٹ آپریشن38 جہازوں تک بڑھایا جائیگا:عارف حبیب
کراچی(خصوصی رپورٹ)معروف بزنس مین عارف حبیب نے صحافیوں سے اہم بیٹھک میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نجکاری، ملکی معاشی حالات اور سرمایہ کاری کے مستقبل پر تفصیلی و تعمیراتی گفتگو کی، عارف حبیب کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی کامیاب بولی کا سہرا مکمل طور پر حکومتی اصلاحات کو جاتا ہے، اگر یہ معاشی اصلاحات نہ ہوتیں تو نجکاری کا عمل بھی کامیاب نہ ہو پاتا، انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کی پہلی بولی کی ناکامی انتظامیہ کی غفلت اور کمزور تیاری کا نتیجہ تھی، فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی پارٹنرشپ کے سوال پر انکا کہنا تھا کہ عارف حبیب کنسورشیم اور پی آئی اے فوجی فرٹیلائزر کی وجہ سے اور مضبوط ہوئی ہے، انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز میں سے 25 فیصد شیئرز فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پاس ہوں گے، جبکہ 25 فیصد شیئرز عارف حبیب اور فاطمہ فرٹیلائزر کے ہوں گے، اور باقی 25 فیصد شیئرز دیگر کنسورشیم ممبرز کے پاس ہوں گے۔ عارف حبیب کے مطابق کنسورشیم میں مزید ایک نئے پارٹنر کی شمولیت کی گنجائش تاحال موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو ایک سال تک تقریباً 70 ارب روپے کے خسارے کے ساتھ چلایا جائے گا، جسکے بعد کمپنی کے منافع میں آنے کی توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے ملازمین کو برطرف نہیں کیا جا رہا، ایک سال بعد کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے۔پی آئی اے کے 32 جہازوں میں سے 17 اس وقت آپریشنل ہیں، جبکہ باقی طیاروں کو فوری طور پر فعال کیا جائے گا، بزنس پلان کے تحت پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن38 جہازوں تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا حکومت نے پاکستان سٹیل مل کی فروخت کی ڈیل ختم کر کے بھاری نقصان اٹھایا، جبکہ ملک کے دیگر سرکاری اداروں کے خسارے وہاں موجود افسران کے ذاتی مفادات کیباعث بڑھ رہے ہیں۔ معروف بزنس مین نے کہا پی آئی اے کی زبوں حالی کی اصل وجہ قرض پر قرض اور اس پر بھاری سود کی ادائیگیاں تھیں۔