جمہوریت کی آزادی کا پہلا دن

 آکاش علی فرتاش
1948ء￿  میں جب فیض احمد فیض صاحب "امروز" کے چیف ایڈیٹر مقرر ہوئے تھے تو اْس وقت وہ " پاکستان ٹائمز " کے بھی ایڈیٹر تھے۔ اْس وقت 1962ء￿  میں جب روزنامہ " امروز " کے ایڈیٹر چراغ حسین تھے جو اْس کے بانی ایڈیٹر بھی تھے. اْس وقت " امروز" اور پروگریسو پیپرز لمیٹڈ (PPL) کے زیر انتظام شائع ہوتا تھا جس کے بانی میاں افتخار الدین تھے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس بات سے آگاہ ہوں کہ روزنامہ " امروز" کا پہلا اداریہ فیض احمد فیض نے ہی رقم کیا تھا۔ فیض احمد فیض نے " امروز " کے ذریعے ترقی پسند نظریات کو پھیلایا اور کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ فیض احمد فیض 9 مارچ 1951ء￿  کو اپنی گرفتاری تک انہی اخبارات سے وابستہ رہے ' اس کے بعد ان کی صحافتی سرگرمیاں منقطع ہو گئیں کیونکہ 50 کی دہائی میں  " راولپنڈی سازش کیس " میں انہیں چار سال سرگودھا، حیدرآباد اور کراچی جیل میں رکھا گیا اور 2 اپریل 1955 کو رہا کیا گیا  دوسری بار انہیں دسمبر 1958 سیفٹی ایکٹ کے تحت پھر سے  گرفتار کیا گیا۔ 1962 سے 1964 تک وہ لندن میں مقیم رہے اور  1964 میں فیض احمد فیض کو لندن میں مقیم ہوتے ہوئے اِسی سال امن پسندی کی وجہ سے سویت یونین کی طرف سے لینن امن ایوارڈ سے نوازا گیا ، جس کے بعد وہ وطن واپس آئے اور کراچی میں عبداللہ ہارون کالج میں پرنسپل مقرر ہوئے۔ 1965 میں  جب فیض احمد فیض واپس آئے تو  اس دوران وہ صحافت ، شاعری ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے حالانکہ اْنہیں اِس سے پہلے بھی قید و بند کا سامنا رہا تھا لیکن وہ اپنے ادبی کاموں میں ہمیشہ آگے بڑھتے رہے اور اسی طرح ایک اہم پاکستانی شاعر کے طور پر اپنا ایک الگ مقام بنانے میں کامیاب رہے، جنہیں عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا تھا۔ فیض احمد فیض اْس وقت اپنے ادبی کیرئیر میں پہلے سے زیادہ سرگرم ہو چکے تھے کیونکہ اب ان کی شاعری میں عشق ، محبت ، ظلم و جبر کے خلاف بلند آواز ، آزادی اور سماجی انصاف کے موضوعات نمایاں تھے۔ 
جب 1965 میں فیض احمد فیض وطن واپس لوٹ چکے تھے تو اْن کی نزو علی فرتاش سے پہلی ملاقات امروز ہی کے دفتر میں ہوئی اور اِن دنوں نِزو علی فرتاش :پاکستان ٹائمز" اور "امروز" میں کالم اور افکار لکھا کرتے تھے۔ امروز میں شائع نِزو علی فرتاش کے افکار میں سے جب  فیض احمد فیض صاحب  نے  نِزو علی فرتاش کے لکھے افکار میں سے ایک فکر انگیز فکرا دہرایا جو یہ تھا کہ " وہ دن جمہوریت کی آزادی کا پہلا دن ہو گا جس دن سیاستدان جھوٹ بولنا چھوڑ دیں گے" تو فیض احمد فیض صاحب نے نِزو علی فرتاش کو اپنا ہم خیال ہونے کا تاثر دیا اور پھر اِسی بنا پر دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے گئے اور اتنے قریب کہ قربت کا یہ سلسلہ دوستی میں ڈھل گیا اور پھر وہ وقت آ گیا کہ مختلف مشاعروں میں ایک ساتھ آنا جانا ہونے لگا اور یوں وقت  گزرتا چلا گیا اور ذہنی ہم آہنگی اپنا  رنگ دکھانے لگی اور دونوں عوام کے حقوق اور سماج میں پھیلی ناانصافیوں کے خلاف اپنی جدوجہد میں ڈٹے رہے فیض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو وفات پا گئے اور نِزو علی فرتاش 10 
دسمبر 2025 کو لیکن یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے عوام کے لئے بارہا قیدوبند کی صوبتوں کا سامنا کیا  اور عوام کے لئے جو عَلم اٹھا رکھا تھا اسے اپنے اپنے آخری سانس تک ڈگمگانے نہ دیا انسانیت کے لئے آواز بلند کرتے رہے اور اپنی اپنی شاعری  اور افکار سے سوئی ہوئی عوام کو بیدار کرنے کی جدوجہد کرتے رہے لیکن نہ تو زمینی خداؤں کے سامنے جھکے اور نہ کبھی اْن سے خوفزدہ رہے۔ یاد رکھئے " انسان کہلانے کے لائق وہی ہوتا ہے جسے اوروں کا درد خود کا درد محسوس ہو"۔