امیگریشن اہلکار کی فائرنگ ، خاتون کی ہلاکت، مظاہرے 29 ،افراد گرفتار

منیپولس پولیس نے جمعہ و ہفتہ کی درمیانی شب لوگوں کو جمع ہونے پر پابندی عائد کی تھی
واشنگٹن (آئی این پی )امریکہ کے شہر منیپولس میں امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس نے اس دوران 29 افراد کو گرفتار کر لیا ۔،مظاہروں کے دوران ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔منیپولس پولیس نے جمعہ و ہفتہ کی درمیانی شب لوگوں کو جمع ہونے پر پابندی عائد کی تھی، تاہم اس دوران سینکڑوں مظاہرین کینوپی ہوٹل کے باہر جمع ہو گئے، جہاں خیال کیا جا رہا تھا کہ امیگریشن ایجنٹس وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔پولیس کے مطابق کچھ افراد نے ایک گلی کے داخلی راستے سے ہوٹل میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔آن لائن پوسٹ کی گئی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین علاقے میں موبائل فون کی لائتیں آن کر کے سیٹیاں اور ڈھول بجا رہے ہیں۔پولیس کے مطابق علاقے میں ایک ہزار سے زائد مظاہرین موجود تھے اور کچھ نے پولیس اہلکاروں اور ان کی گاڑیوں کی طرف برف کے گولے پھینکے۔بی بی سی کے مطابق، ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار کو معمولی چوٹیں آئیں لیکن اسے کسی طبی امداد کی ضرورت نہیں تھی۔مقامی میڈیا میں 37 سالہ رینی نکول گڈ کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کو بالکل قریب سے (پوائنٹ بلینک رینج) اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی بھگا کر دور جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنھوں نے ان کی کار کو گھیر رکھا تھا