آلو پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں گندم، چاول اور مکئی کے بعد چوتھی بڑی فصل

فصل کی برداشت 15 جنوری تا 15 فروری یعنی بوائی کے 100 تا 120 دن کے بعد کی جاتی ہے
فیصل آباد(آ ئی این پی)آلو پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں گندم، چاول اور مکئی کے بعد چوتھی بڑی فصل ہے اور پاکستان میں یہ تھوڑے عرصہ میں پک کر تیار ہو نے والی نقد آور اور نفع بخش فصل ہے۔ ہمارے ملک میں آلو کی تین فصلیں لی جاتی ہے میدانی علاقوں میں دو فصلیں یعنی موسم بہار اور موسم خزاںجبکہ پہاڑی علاقوں میں صرف ایک فصل گرمی کے موسم میں کاشت کی جاتی ہے۔پنجاب کے میدانی علاقوں میں موسم خزاں میں کاشت کی جانے والی آلو کی فصل کی برداشت 15 جنوری تا 15 فروری یعنی بوائی کے 100 تا 120 دن کے بعد کی جاتی ہے۔آلو کی برداشت کا مرحلہ بہت اہم گردانا جاتا ہے کیونکہ اس کی معیاری پیداوار کے حصول پر کاشتکار کی ساری محنت کا دارومدار ہوتا ہے۔ اس مرحلہ پر کسی قسم کی سستی یا کوتاہی سے پیداوار میں کمی کے علاوہ کوالٹی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کاشتکار آلو کی برداشت اور سنبھال کے دوران فصل اس وقت برداشت کریں جب بیلیں پیلی ہونی شروع ہو جائیں اور زمین پر گرنے لگیں