شیر افضل مروت کا مزارِ قائد پر جلسے کے فیصلے سے یوٹرن کے سندھ حکومت کے فیصلے پر اظہار تشویش

 پرامن اجتماع کو روکنے کے اقدامات نہ صرف ریاست کے مفاد میں نہیں بلکہ سیاسی استحکام کیلئے نقصان دہ بھی ہیں
پشاور(آئی این پی ) رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے سندھ حکومت اور وزیرِ اعلی سندھ کی طرف سے مزارِ قائد پر پی ٹی آئی کے عوامی جلسے کے ابتدائی فیصلے سے یوٹرن لینے پر تشویش کا اظہار کیا اور جمہوری رویے اور تاریخی سیاسی اصولوں کے احترام پر زور دیا ہے۔ شیر افضل مروت نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے نام کھلا خط لکھا ہے ۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ اجازت دینے کا ابتدائی فیصلہ جمہوری رویے کی مثبت مثال تھا، لیکن فوری یوٹرن لینے سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جمہوری فیصلے وقتی دبا کے سامنے ضائع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی جماعت کے پرامن اجتماع کو روکنے کے اقدامات نہ صرف ریاست کے مفاد میں نہیں بلکہ سیاسی استحکام کیلئے نقصان دہ بھی ہیں۔شیرافضل مروت نے وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے ملاقاتوں اور تقریروں کی اچانک منسوخی کو بھی تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات ادارہ جاتی خودمختاری اور اظہارِ رائے کی آزادی پر سوالیہ نشان ہیں۔ خط میں مروت نے پیپلز پارٹی کی تاریخی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج پارٹی کو وہ رویہ اپنانا فکری اور اخلاقی تضاد ہوگا، جو اس نے کبھی خود برداشت کیا۔ انہوں نے بلاول بھٹو سے اپیل کی کہ اختلافات کو جمہوری اصولوں کے مطابق جلسوں اور عوامی اجتماعات کے ذریعے سامنے آنے دیا جائے تاکہ سندھ اور پورے پاکستان میں جمہوری روایت برقرار رہے۔