یہ بل سابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور جے یو آئی (ف) کے *نور عالم خان* نے پیش کیا تھا
اسلام آباد (آن لائن) 22ہزار بیوروکریٹس کی دوہری شہریت پر پابندی کے حوالے سے بل پر فیصلہ قومی اسمبلی کی کیبنٹ سیکریٹریٹ کمیٹی میں سوموارب16 فروری کو کیا جائے گا۔بل جے یو آئی کے رکن نور عالم خان نے پیش کیا تھا۔ سرکاری ملازمین (سول سروسز) کے لیے دوہری شہریت پر پابندی لگانے کے حوالے سے پیش ہونے والے ترمیمی بل جس کا مقصد سو سرونٹس ایکٹ 2005 کی سیکشن 5 میں ترمیم کرکے دوہری شہریت رکھنے والوں کو سرکاری عہدوں پر تقرری سے نااہل قرار دینا ہے پر ووٹنگ قومی اسمبلی کی کیبنٹ کمیٹی میں سوموار 16 فروری کو ہوگی۔یہ بل سابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور جے یو آئی (ف) کے رکن قومی اسمبلی *نور عالم خان* نے پیش کیا تھا۔ کمیٹی کے اراکین نے اسے ایک قانون سب کے لیے قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں اراکین پارلیمنٹ اور فوج کے اہلکاروں پر دوہری شہریت کی پابندی ہے، وہیں سول سروس کے افسران کو بھی اسی اصول کے تحت لایا جائے۔کمیٹی کے اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ پاکستان میں 22,000 سے زائد بیوروکریٹس دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کو فراہم کیے تھے، جس سے قومی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اراکین نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب ایم این ایز اور ججز دوہری شہریت نہیں رکھ سکتے، تو بیوروکریٹس کو یہ رعایت کیوں ہے کمیٹی چیئرمین ملک ابرار احمد نے حتمی پروسیجرل ووٹ کو 16 فروری تک ملتوی کر دیا تاکہ وزیراعظم سے مشاورت کی جا سکے۔ کیبنٹ سیکریٹری کامران علی افضل نے تجویز دی کہ اس پابندی کو ججز تک بھی بڑھایا جائے اور کیس ٹو کیس بنیاد پر جائزہ لیا جائے، کیونکہ کچھ افسران پیدائشی طور پر دوہری شہریت رکھتے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ پاکستان کے 21 ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کے معاہدے موجود ہیں، لیکن اب تجویز ہے کہ سرکاری ملازمین کے لیے یہ رعایت ختم کیجائے۔ کمیٹی کا اگلا اجلاس 16 فروری کو طلب کیا گیا ہے، جہاں حتمی فیصلہ متوقع ہے