سینیٹ کابینہ کمیٹی : سرکاری افسران کی دوہری شہریت کا بل اگلے اجلاس تک موخر

 لگتا ہے بیوروکریسی نہیں چاہتی ہے کہ ان کیلئے دوہری شہریت کا قانون منظور کیا جائے،محرک بل سینیٹر افنان اللہ
 پابندی سب ادارو ں پر ہونی چاہیے، اراکین کمیٹی،چیئرمین کی کابینہ ور وزیر اعظم کو سفارشات پیش کرنے کی ہدایت
 اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ کی کابینہ کمیٹی نے اہم عہدوں پر تعینات سرکاری افسران کی دوہری شہریت کا بل اگلے اجلاس تک موخرکردیا ، دوہری شہریت کی پابندی سب ادارو ں پر ہونی چاہیے کمیٹی کے بعض اراکین کا موقف، چیئرمین کمیٹی نے اگلے اجلاس میں کابینہ اور وزیر اعظم کی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کردی۔جمعہ کو قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن کا اجلاس چیئرمین رانا محمود الحسن کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائو س میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن سمیت دیگر افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں  دوہری شہریت کے قانون سے متعلق بل کے محرک سینیٹر افنان اللہ نے کہاکہ یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوا تھا مگر سینیٹ نے ابھی تک اسے منظور نہیں کیا ہے ،لگتا ہے کہ بیوروکریسی نہیں چاہتی ہے کہ ان کیلئے دوہری شہریت کا قانون منظور کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے بھی واضح ہدایات موجود ہیں ۔اس موقع پر سیکرٹری کابینہ نے کہاکہ بل پر سیکرٹریز کی کمیٹی میں بحث ہوئی ہے اور مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دوہری شہریت کے مختلف مراحل ہیں ،یہ بھی موقف سامنے آیا ہے کہ قانون سب کیلئے یکساں ہونا چاہیے ۔سینیٹر افنان اللہ نے کہاکہ یہ قانون مستقبل میںلاگو ہونا چاہیے جو پہلے سے موجود ہیں ان پر نہیں ۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری سارا سعید نے کہاکہ میں خود دوہری شہریت کی حامل ہوں مگر میری پیدائش وہاں پر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے قانون میں دوہری شہریت کے حوالے سے بہت نرمی ہے اور22ممالک کی شہریت کے ساتھ پاکستان کی شہریت رکھی جاسکتی ہے، کوئی غیر ملکی جس کے پاس پاکستان کی شہریت نہ بھی ہو وہ بھی وفاقی حکومت کی اجازت کے بعد ملازمت حاصل کرسکتا ہے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہاکہ دوہری شہریت رکھنے والے بھی اتنے ہی وفادار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں انجینئرز کی آسامیاں گذشتہ چار سالوں سے اس وجہ سے خالی ہیں کہ ملک میں اس حوالے سے موزوں انجینئرز دستیاب نہیں ہیں اگر ہم دوہری شہریت والوں پر پابندی لگائیں گے تو یہ درست نہیں ہوگا ۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس حوالے سے وزیر اعظم ہائوس کو بل بھجوا کر سفارشات لی جائیں ۔اس موقع پر سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہاکہ جن لوگوں کی پیدائش باہر کی ہے اگر وہ ملک واپس آکر ملازمت کریں تو ان کو اجازت ہونی چاہیے ۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہاکہ دوہری شہریت کا قانون تمام اداروں پر لاگو کیا جائے۔ سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کہاکہ پہلے سول سرونٹس پر یہ قانون لاگو کیا جائے اس کے بعد دیگر اداروں پر بھی لاگو کیا جائے۔ سینیٹر سیف اللہ نیازی نے کہاکہ بل کا اطلاق سب اداروں پر ہونا چاہیے۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے بل پر ووٹنگ اگلے اجلاس تک موخر کرتے ہوئے اس حوالے سے سیکرٹریز کمیٹی سمیت کابینہ کی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔