گوتم گمبھیر پر جانبداری کا الزام، محمد سراج کو اسکواڈ سے باہر کرنے پر شدید تنقید

گوتم گمبھیر پر جانبداری کا الزام، محمد سراج کو اسکواڈ سے باہر کرنے پر شدید تنقید

بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کو فاسٹ بولر محمد سراج کی جگہ ہرشیت رانا کو اسکواڈ میں شامل کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

 ناقدین کا کہنا ہے کہ گوتم گمبھیر نے پسندیدہ کھلاڑیوں کو فوقیت دیتے ہوئے ایک تجربہ کار اور ثابت شدہ باؤلر کو نظر انداز کر دیا۔

ہرشیت رانا کی کارکردگی اور انتخاب پر اعتراض
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہرشیت رانا کو گوتم گمبھیر کے خاص کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی شمولیت پر شائقین اور ماہرین کرکٹ نے سوالات اٹھائے ہیں۔ وہ اس وقت انگلینڈ کے خلاف اپنی پہلی ون ڈے سیریز کھیل رہے ہیں، جہاں دو میچز میں چار وکٹیں لے چکے ہیں، لیکن ان کے لسٹ اے اور ٹی20 کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے انہیں اسکواڈ میں شامل کرنے کے فیصلے پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔ہرشیت رانا نے لسٹ اے کرکٹ میں 16 میچز میں 26 وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ ٹی20 میں 26 میچز میں 31 وکٹیں لی ہیں۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سطح کی کارکردگی پر کسی کو محمد سراج جیسے سینئر کھلاڑی کی جگہ دینا غیر منصفانہ ہے۔

گوتم گمبھیر پر جانبداری کے الزامات
گوتم گمبھیر پر یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) فرنچائز کے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو بھارتی اسکواڈ میں شامل کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ہرشیت رانا اور ورون چکرورتی کی سلیکشن پر سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ 2023 کے کرکٹ ورلڈکپ میں محمد سراج جسپریت بمراہ کے بعد بھارت کے لیڈنگ فاسٹ بولر تھے، لیکن انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جسے کرکٹ حلقے متنازعہ فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔

محمد سراج کی نئی پوزیشن
دوسری جانب، محمد سراج کو آئندہ 8 ملکی ٹورنامنٹ کے لیے نان ٹریولنگ ریزرو کے طور پر رکھا گیا ہے۔ ان کے ساتھ یاشاسوی جیسوال اور شیوم دوبے کو بھی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں ریزرو کھلاڑیوں میں رکھا گیا ہے۔بھارتی ٹیم کی حالیہ سلیکشن پالیسی پر ماہرین اور سابق کرکٹرز بھی سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ میرٹ پر مبنی ہے یا نہیں۔