اشتہاری کو چھڑوانے کے لیے وکلاء کاپولیس اہلکاروں پرتشدد،اے ایس آئی جاں بحق

شاہد اورجمیل ایف آئی اے کورٹ کے باہر ملزم عدیل کو گرفتار کرکے لے جارہے تھے،وکلاء نے دھاوابول دیا
 آئی جی پنجاب کا نوٹس ، سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی ، ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا
لاہور(کرائم رپورٹر)مزنگ کے علاقے میں اشتہاری ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے کے دوران ملزم کے وکلاء کے مبینہ تشدد سے پولیس کا اے ایس آئی جاں بحق ہوگیا،شہید اے ایس آئی شاہدایف آئی اے کورٹ کے باہر اشتہاری ملزم عدیل کو گرفتار کر کے لے جا رہا تھا کہ وکلاء کے گروہ نے دھاوا بول دیا ۔ آئی جی پنجاب کا ملزما ن کو فوری گرفتار کرنے کا حکم۔پولیس کے مطابق شادباغ انویسٹی گیشن پولیس کے اے ایس آئی شاہد اور جمیل ایف آئی اے کورٹ کے باہر سے اشتہاری ملزم عدیل کو گرفتار کر کے لے جا رہے تھے کہ مزنگ کے قریب ملزم  کے وکلا ء نے ان پر دھاوا بول دیا، تشدد کے باعث تھانیدار شاہد کی حالت غیر ہوگئی اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی اور ڈی آئی جی آپریشنز کو تشدد میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔ دوسری جانب ایس ایس پی محمد نوید نے ڈیڈ ہاؤس میں اے ایس آئی محمد شاہد کی نعش کا ملاحظہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کا گروہ اشتہاری ملزم کو چھڑوا کر فرار ہو گیا،واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے، محمد شاہد کو شہید کرنیوالے تمام ملزمان کو جلد گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔