بی آر بی کینال پر شہر کے پہلے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے پر31ارب 88کروڑ روپے لاگت آئے گی
لاہور (کرائم رپورٹر)لاہور کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک بڑا بریک تھرو- بی آر بی کینال پر شہر کے پہلے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔پنجاب حکومت نے 31 ارب 88 کروڑ روپے سے زائد کے اس تاریخی منصوبے کے آغاز کی رواں مالی سال میں منظوری دے دی ہے۔نہری پانی کو ٹریٹ کر کے پینے کے قابل بنانے والا یہ منصوبہ نہ صرف لاہور کے پانی بحران کو کم کرے گا بلکہ 2040 تک ایک ہزار کیوسک صاف پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ تفصیلات کے مطابق منصوبے کی فنانسنگ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک 25 ارب 68 کروڑ روپے کا قرض فراہم کرے گا، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے 6 ارب 80 کروڑ روپے جاری کیے جائیں گے۔ نہری پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنانے والا یہ پلانٹ لاہور کے مستقبل کے لیے ایک گیم چینجر منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔پہلے فیز میں راوی سائفن سے ایک سو کیوسک پانی کو ٹریٹ کر کے قابل استعمال بنایا جائے گا۔ طویل المدتی پلان کے تحت سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ 2040 تک ایک ہزار کیوسک پانی ٹریٹ کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جو لاہور کے ایک بڑے حصے کو قابلِ اعتماد پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے کافی ہوگا۔منصوبہ مجموعی طور پر 120 ایکڑ پر تعمیر کیا جائے گا۔ واسا نے اس کے لیے اب تک 94 ایکڑ اراضی ایکوائر کر لی ہے۔ اس منصوبے کا آغاز تقریباً 8 سال کی تاخیر کے بعد ممکن ہو رہا ہے۔ سرفیس واٹر پلانٹ کا کنسیپٹ 5 دسمبر 2017 کو کنسیپٹ کلیئرنس کمیٹی نے منظور کیا تھا جبکہ وفاقی حکومت کی ایکنک کمیٹی نے اسے 29 اپریل 2019 کو حتمی منظوری دی تھی۔سابق دورِ حکومت میں اس منصوبے پر کوئی عملی پیشرفت نہ ہو سکی۔ موجودہ حکومت نے نہ صرف اس منصوبے کو ترجیح دی ہے بلکہ فنانسنگ، اراضی ایکوزیشن اور پلاننگ کے مراحل کو مکمل کرتے ہوئے اس کے آغاز کی منظوری بھی دے دی ہے۔منصوبے پر پیشرفت شروع ہوتے ہی شہر کو مستقبل میں پینے کے پانی کا ایک پائیدار اور محفوظ ذریعہ ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔