وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلامک کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس سے بذریعہ زوم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور اس نے معاشی سمت کو درست کر لیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کا عزم رکھتے ہیں اور اس بات کا اشارہ دیا کہ حکومت اس شعبے میں مثبت پیش رفت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں تمام متعلقہ اداروں اور افراد کا مشترکہ تعاون ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شریعہ اصولوں کے تحت تیار کی گئی مالی مصنوعات سے صارفین کا اعتماد حاصل کیا جانا ضروری ہے۔ عالمی سطح پر ویلیو فنانشل خدمات کی طلب بڑھ رہی ہے اور پاکستان اس شعبے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایس ای سی پی (سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان) اس شعبے کو ریگولیٹری ماحول فراہم کر رہا ہے اور انویسٹمنٹ کے ماحول میں بہتری کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامک فنانس کے شعبے میں گزشتہ چند برسوں میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکوک کے ذریعے حکومت اور سرمایہ کار دونوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور اس کے ذریعے اسلامی فنانسنگ کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ گزشتہ سال کے دوران کارپوریٹ سکوک میں 27 فیصد اضافہ ہوا جو بڑھتی ہوئی طلب کا غماز ہے۔
اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سمیع نے کہا کہ پاکستان اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کا بانی رکن ہے اور اس ادارے نے پاکستان میں 400 منصوبوں کے لیے 15 ارب ڈالر فراہم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، آیو ایف آئی (انٹرنیشنل اسلامک فنانس فورم) کے چیئرمین شیخ ابراہیم بن خلیفہ نے پاکستان کیپٹل مارکیٹ کی اہمیت پر بات کی اور کہا کہ پاکستان شریعہ کمپلائنٹ بننے کے بعد عالمی سطح پر ایک رول ماڈل بن چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سکوک کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس شعبے میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔وزیر خزانہ اور دیگر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسلامی فنانس کے شعبے میں تعاون اور تخلیقی اقدامات سے معاشی، ماحولیاتی اور سیاسی استحکام میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔