ایران نے امریکہ کے خلاف جنگ کے دوران دنیا کے سامنے خود کو ایک سخت اور ناقابلِ شکست طاقت کے طور پر ثابت کیا: وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس
رہبرِ انقلاب نے دشمن کے خلاف قومی اتحاد، یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا ، دشمن کی پوری حکمت عملی اختلافات اور انتشار پیدا کرنے پر مرکوز ہے:ایرانی صدر مسعود پزشکیان
تہران(آئی این پی ) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعوی کیا ہے امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے تقریبا 20 روز بعد مذاکرات کی بھیک مانگی حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران سے "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے" کا مطالبہ کیا تھا۔ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر صرف دو الفاظ لکھے تھے، "غیر مشروط ہتھیار ڈالنا"، اور امریکا اس وقت ایران سے مکمل طور پر سرنڈر کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق صورتحال چند ہی ہفتوں میں تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ تقریبا 20 روز بعد امریکا نے ایران سے مذاکرات کے لئے رابطہ کیا اور بات چیت کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران امریکی دبائو کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور اپنے موقف پر قائم رہا۔ایرانی وزیر خارجہ نے دعوی کیا کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران دنیا کے سامنے خود کو ایک "سخت اور ناقابلِ شکست طاقت" کے طور پر ثابت کیا‘دریں اثناو یرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے رہبرِ انقلاب نے دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای سے ملاقات کے متعلق بتایا کہ یہ نشست 7 گھنٹے طویل رہی، ملک کو درپیش اہم مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ دشمن کی پوری حکمت عملی اختلافات اور انتشار پیدا کرنے پر مرکوز ہے، رہبر انقلاب نے اتفاق کیا کہ قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے بیانات سے گریز کرنا ہو گا، اندرون ملک اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن بیرونی دنیا کے سامنے ایران کو ایک آواز میں بات کرنی چاہئے