ارشد مہدی جعفری
دنیا خاموشی سے ایک نئے عالمی صف بندی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف بڑی طاقتیں اپنے جیو پولیٹیکل اہداف کے تحت صف بند ہو رہی ہیں، دوسری طرف چھوٹی ریاستیں ان صف بندیوں کے زیرِاثر اپنی نئی جگہ بنانے کیلئے سرگرداں ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ملک بے خبری، اندرونی خلفشار یا تزویراتی سستی کا شکار ہو تو تاریخ اسے روند کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان جیسے حساس جغرافیے اور اہم اسٹریٹجک مقام پر موجود ملک کیلئے یہ لمحہ کتنا خطرناک اور کتنا فیصلہ کن ہے؟ ترکیہ نے اپنی پانچویں نسل کے لڑاکا جیٹ پروگرام ’’کا?ن‘‘ میں اب صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ مصر کو بھی باقاعدہ طور پر شراکت دار بنا لیا ہے۔ مہینوں کی اعلیٰ سطحی بات چیت کے بعد قاہرہ کو اس منصوبے میں عسکری صنعتی شراکت دار کی حیثیت سے شامل کر کے ترکیہ نے ایک نیا جیو اسٹریٹجک اتحاد تشکیل دینا شروع کر دیا ہے۔ اس اتحاد کی خاص بات یہ ہے کہ یہ امریکہ یا یورپ کے روایتی عسکری حلقوں سے باہر ایک اسلامی بلاک کے خدوخال رکھتا ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں خودمختاری اور مغرب سے بے نیازی کا رجحان صاف نظر آتا ہے۔
ادھر بھارت 2024 میں دنیا کی پانچویں سب سے بڑی ایوی ایشن مارکیٹ بن چکا ہے، جس نے ہوابازی کے شعبے میں حیران کن تیزی دکھائی ہے۔ ا?ئی اے ٹی اے کے مطابق، 241 ملین مسافروں کا ہینڈلنگ بھارت کیلئے نہ صرف معاشی کامیابی ہے بلکہ جیو اکنامک رسائی کا اظہار بھی ہے۔ ممبئی- دہلی روٹ دنیا کے ساتویں مصروف ترین ایئر روٹس میں شمار ہونے لگا ہے۔ یہ ساری کامیابیاں عالمی اسٹیج پر بھارت کی قبولیت اور اس کی معاشی چالاکیوں کی عکاس ہیں۔ لیکن اسی بھارت کی ٹیکنالوجی کی قلعی اس وقت کھل گئی جب آسٹریلیا نے اپنا سیٹلائٹ انڈین راکٹ انجن سے خلا میں بھیجنے کی کوشش کی، جو زمین سے بمشکل چند میٹر بلند ہو کر زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس واقعے نے بھارت کے سافٹ پاور بیانیے پر کاری ضرب لگائی، اور آسٹریلیا جیسے ممالک کو بھی ہوش کے ناخن لینے پر مجبور کیا کہ صرف سستے داموں مصنوعات لینا، پائیدار ٹیکنالوجی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ اسی دوران امریکہ نے آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین ایک نئے راہداری منصوبے پر خاموشی سے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپیرٹی کے نام سے ایک اہم راہداری جس کا مقصد آذربائیجان کو ناخچیوان کے محصور علاقے سے جوڑنا ہے، اب امریکی اثر میں آ چکی ہے۔ یہ بظاہر ایک سفارتی کامیابی ہے، لیکن اس کا اصل مطلب ہے قفقاز کے علاقے میں روسی و ایرانی اثرورسوخ کو محدود کرنا اور اس خطے کو امریکی بلاک کے زیرِ اثر رکھنا ہے۔
اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ مکمل تباہ ہو چکا ہے اور اب ان کے نزدیک سب سے اہم ہدف یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک ابراہم معاہدے میں شامل ہوں، تاکہ خطے میں امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ امریکہ نے اسی دوران بھارت پر بھی 25 فیصد نیا ٹیرف لگا کر، مجموعی ٹیرف کو 50 فیصد کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں بھارت نے 6 نئے پی 81 طیاروں کی خریداری کا عمل روک دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور دہلی کے درمیان "دوستی" محض وقتی مفادات کی اسیر ہے اور اصل میں اعتماد کا فقدان موجود ہے۔ اس پس منظر میں بھارت کے اپنے اندر بھی اختلافی بیانیے ابھر رہے ہیں۔ بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسر میجر جنرل ردھر وسی کٹوچ نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت کسی کا "امریکی کالونی" نہیں، اور نہ ہی وہ فرمانبردار کتے کی طرح آگے لگنے کو تیار ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ روس سے بھی سستا تیل فراہم کر دے تو بھارت اس پر غور کرے گا، ورنہ وہ روس ہی سے خریداری جاری رکھے گا۔
خطے میں پاکستان نے اس خاموش جنگ میں ایک بہت اہم سفارتی کارڈ کھیلا ہے۔ ایرانی صدر کا حالیہ دور? پاکستان محض علامتی نہیں بلکہ اسٹرٹیجک تھا۔ توانائی، تجارت، سرحدی سلامتی اور مشترکہ اقتصادی زون کے 12 معاہدے اس دورے کا عملی نتیجہ ہیں۔ خاص طور پر رِیمدان گبد مشترکہ اقتصادی زون کا قیام، جو کہ گوادر سے صرف 70 کلومیٹر دور ہے، نہ صرف معاشی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس کا ایک اسٹرٹیجک پہلو یہ ہے کہ یہ خطے میں بھارت کیلئے ایک کاؤنٹر نیریٹو تشکیل دیتا ہے۔ ایران نے پہلی بار بی ایل اے اور جیش العدل جیسے گروہوں کیخلاف کھل کر کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان بھی اپنی مغربی سرحد پر انٹیلی جنس کورڈن سخت کرنے جا رہا ہے۔ بیجنگ پہلے ہی سی پیک میں اربوں ڈالر لگا چکا ہے، اور اب ایران کے شامل ہونے سے سی پیک ایک سہ فریقی راہداری میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ایران کی "سلک روڈ ایکسپینشن" حکمت عملی گوادر اور چابہار کو ایک دوسرے کی جڑواں بندرگاہوں میں بدلنے جا رہی ہے، جس سے بھارت کا چابہار کارڈ بھی غیر مؤثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک طرف یہ ایک نیا تجارتی پل بن رہا ہے، دوسری طرف بی ایل اے جیسے گروہوں کے لیے جغرافیائی نرغہ تیار ہو رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش بھی حالیہ برسوں میں چین اور ایران کیساتھ اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے، جس سے مستقبل میں ایک وسیع تر علاقائی اتحاد پاکستان، ایران، چین اور بنگلہ دیش کے خدوخال ابھرنے لگے ہیں۔ یہ ایسی تبدیلی ہے جو صرف سفارتکاری نہیں، بلکہ عمیق تدبّر اور عملی عزم سے ممکن ہوئی ہے۔ اسی دوران خطے میں توانائی کی سیاست بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ قابض رجیم نے مصر کے ساتھ 2040 تک گیس برآمد کرنے کیلئے35 بلین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جسے تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی گیم میں نئے کھلاڑیوں کا توازن مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
اس تمام بین الاقوامی صف بندی کے بیچ پاکستانی دفاعی ادارے خاموش مگر مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ سرحدوں پر دشمن کو روکنے سے لیکر سفارتی میدان میں سٹریٹیجک فیصلہ سازی تک، عسکری قیادت کی سوچ ایک واضح وڑن کا مظہر ہے۔ مشرقی سرحد پر روایتی خطرات کا سامنا ہو یا مغربی سرحد پر دہشتگردی کی لہر، پاکستان کا دفاع اب محض ردعمل پر مبنی نہیں رہا بلکہ پروایکٹو یعنی پیشگی سوچ پر مبنی ہو چکا ہے۔ اندرونِ ملک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، بیرونِ ملک دفاعی سفارتکاری، اور عالمی سطح پر پاکستان کا امن پسند مگر پْرعزم مؤقف۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا دفاع آج محض بندوق یا ٹینک سے نہیں بلکہ تدبر، وڑن، اور قومی ہم آہنگی سے جڑا ہے۔
ادھر یوکرین میں پاکستانی جنگجوؤں کی موجودگی کے الزام پر پاکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے تمام دعوے جھوٹ، بے بنیاد اور ناقابلِ قبول قرار دیئے ہیں۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نہ تو یوکرینی حکام نے کوئی باضابطہ رابطہ کیا اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کیا۔ یہ الزام بظاہر عالمی سیاست میں پاکستان کو گھسیٹنے کی ایک نئی کوشش ہے اور پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ پرامن حل کے حق میں ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ جہاں دنیا کی بڑی طاقتیں نئے عسکری اتحاد، ٹیکنالوجی پارٹنرشپس اور سفارتی راہداریوں کی تلاش میں ہیں، وہاں یورپ کی سب سے بڑی دفاعی کوشش یعنی "فیوچر کومبیٹ ایئر سسٹم" خود ہی ٹوٹنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ فرانس اور جرمنی کے درمیان قیادت اور ٹیکنالوجی کی تقسیم پر اختلافات اس منصوبے کو نگل رہے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوتا ہے تو یورپ کی دفاعی خودمختاری کا خواب ایک بار پھر امریکی ایف 35 پر انحصار کی طرف لوٹ جائے گا۔ فرانس چاہتا ہے کہ وہ این جی ایف یعنی اگلی نسل کے لڑاکا طیارے کی قیادت کرے، جبکہ جرمنی برابری کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں یورپ نے ایک اور قدم آگے بڑھایا ہے۔ پیرس ایئر شو 2025 میں اعلان ہوا کہ چھٹی نسل کے "ٹیمپسٹ" فائٹر کے لیے مستقبل کے کروز اور اینٹی شپ میزائل پروگرام کے تحت ٹی پی ففٹین اور ا?ر جے ٹین جیسے دو نئے میزائل تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ نہ صرف موجودہ ایگزوسیٹ، ہارپون اور سٹرام شیڈو کو بدلیں گے بلکہ جدید خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کریں گے۔ برطانیہ کی قیادت میں تیار ہونیوالا ٹی پی 15 ایک سب سونک اسٹیلتھ میزائل ہوگا، جبکہ فرانس کا ا?ر جے ٹین سپر سونک رفتار کیساتھ دشمن کے ایئر ڈیفنس کو توڑنے کی صلاحیت رکھے گا۔
اس سارے منظرنامے میں پاکستان کے پاس تاریخ کا ایک نادر موقع ہے۔ وہ چین اور ایران جیسے دو طاقتور اور ہم خیال ملکوں کیساتھ مل کر نہ صرف خطے میں ایک نیا اسٹرٹیجک بلاک تشکیل دے سکتا ہے، بلکہ بھارت جیسے تخریبی کرداروں کو بھی مؤثر طریقے سے محدود کر سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ ہم داخلی خلفشار، سیاسی انتشار، اور ادارہ جاتی عدم اعتماد سے باہر نکلیں۔ اس وقت دنیا پاکستان کو دیکھ رہی ہے، کیا ہم اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں گے؟ یا ایک بار پھر خوابِ غفلت کا شکار ہو کر صرف تماشا دیکھتے رہیں گے؟