یاسمین راشد، اعجاز چودھری ، عمرسرفراز ، محمودالرشید ،عالیہ ، صنم کو سزا
عوام اٹھ کھڑے ہونگے، فیصلہ چیلنج کرینگے:پی ٹی آئی کا اعلان
لاہور( کرائم رپورٹر )لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کے 2 کیسز میں پی ٹی آئی رہنماوٓں یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چودھری اور عمرسرفراز چیمہ کو 10 ، 10 سال اور عالیہ حمزہ اورصنم جاوید کو5،5 سال قید کی سزا کا حکم سنادیا ،عدالت نے شاہ محمود قریشی کو دونوں مقدمات سے بری کردیا۔لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج منظر علی گل نے دونوں مقدمات کا کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل مکمل کیا۔تھانہ شادمان جلاوٓگھیراوٓکے مقدمہ میں 41ملزم نامزد تھے جس میں سے عدالت نے 25ملزموں کا ٹرائل مکمل کیا ایک ملزم انتقال کرگیا اور 15ملزموں کو اشتہاری قرار دیا گیا عدالت نے 13ملزموں کو سزائیں سنائیں، 12 کو بری کرنے کے احکامات جاری کئے ، عدالت نے اعجاز چودھری ، ڈاکٹر یاسمین راشد ، عمر سرفراز چیمہ ، محمودالرشید ، محمد فہیم قیصر ، نیاز احمد ، سید علی حسن ،زین علی ، منفر ، محمد اسد علی ،بلال وجاہت کو دس ، دس سال قید کی سزا کا حکم سنایا جبکہ عدالت نے عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو پانچ پانچ سال قید کی سزا اور ایک ،ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا عدالت نے تھانہ شادمان نظر آتش کیس میں 12 ملزموں کو بری کر دیا ۔بری ہونے والوں میں شاہ محمود قریشی ، محمد اویس محمد فیضان، طیب سلطان ، شاہد بیگ، سہیل خان، رفیع الدین، فرید خان، سلمان احمد، عبد القادر، ماجد علی اور بخت رواں شامل ہیں، عدالت 15ملزموں کو اشتہاری قرار دیدیا جبکہ ایک ملزم انتقال کرچکا ۔دوسری جانب عدالت نے بیکری کے باہر پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں مجموعی طور پر 25ملزموں کا ٹرائل مکمل کیا جس میں سے 10ملزموں کو سزائیں سنائیں، 7 کو بری کیا اور7 اشتہاری قرار دیا۔عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد ،عمر سرفراز چیمہ ،اعجاز چودھری ، محمود الرشید ،عائشہ علی بھٹہ ،حافظ محمد ارشد ،بلال بشیر ،محمد قاسم ،زین الحسن ،علی حسن کو دس ، دس سال قید کی سزا کا حکم سنایا جبکہ عدالت نے شاہ محمود قریشی ، امجد خان ، ابرار احمد ، فیصل معین الدین ، محمد جمیل ، سعدیہ اور تسنیم اختر کو بری کر دیا۔شاہ محمود قریشی کو دونوں مقدمات سے بری کردیا گیا۔یاد رہے کہ دو برس قبل نو مئی 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس میں عسکری املاک پر بھی حملے کیے گئے تھے۔اس کے بعد تحریکِ انصاف کے رہنماوٓں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں متعدد گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔خیال رہے کہ عالیہ حمزہ اور صنم جاوید ضمانت پر ہیں۔اس سے قبل بھی شاہ محمود قریشی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو مقدمات میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کرنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے انسدا دہشت گردی کی عدالتوں کو 9 مئی کے مقدمات کی عدالتی سماعت مکمل کرکے ان مقدمات کا فیصلہ 4 ماہ میں سنانے کا حکم دیا تھا۔فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نو مئی کے واقعات سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سْناتے ہوئیتحریک انصاف کے مرکزی رہنماوٓں سمیت 108 کارکنوں کو قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں جبکہ سْنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں۔اس سے قبل 22 جولائی کو سرگودھا اور لاہور کی عدالتوں سے سامنے آنے والے فیصلوں میں پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد احمد خان بچھر، رْکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ اور سابق وزرا یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر مرکزی رہنماوٓں کو سزائیں سْنائی گئی تھیں۔ان کے علاوہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماوٓں خالد قیوم، ریاض حسین، علی حسن اور افضال عظیم پاہٹ بھی دس، دس برس قید کی سزا پانے والوں میں شامل ہیں۔عدالتوں کی جانب سے جن پی ٹی آئی رہنماوٓں کو بری کیا گیا ہے اْن میں سابق وفاقی وزیر فواد چودھری ، شاہ محمود قریشی خود اور ان کے بیٹے ایم این اے زین قریشی، خیال کاسترو اور عبداللہ دمڑ شامل ہیں۔ادھر پی ٹی آئی رہنماوٓں کو سزاوٓں پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایک بار پھر 9 مئی کسز میں ہمارے رہنماوں کو سزا ہوئی، نہ صرف ہمارا مینڈیٹ چوری لیا گیا بلکہ موجود ارکان کو نااہل کیا جارہا ہے ، ہمارے 76 ارکان ایوان میں رہ گئے، ہم چیف جسٹس سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نیہمیشہ سے 9مئی کے واقعات کی مذمت کی، 9مئی نہیں ہونا چاہیے تھا، آئندہ بھی کبھی نہ ہو، آج جو بھی فیصلے آئے ہیں ہم ان کو مسترد کرتے ہیں، ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ 9 مئی کے کیسز کا ایک ٹرائل ہو، اس کے لیے ہماری پٹیشنز پڑی رہیں جن پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہماری پٹیشنز پر فیصلہ نہ آنے سے سیاسی تناوٓ بڑھتا گیا، انصاف کا قتل ہوتا رہا، یہ عمل آج بھی شروع ہے، اگر یہ دن ایسے ہی رہیں گے تو عوام اٹھ کھڑے ہوں گے، عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا، تحریک چلے گی، تحریک اس وقت تک چلے گی جب تک ہمارے لیڈر عمران خان رہا نہیں ہوجاتے، جن کے نام پہ ہمیں لوگوں نے ووٹ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، ہم نے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ ملنے کی اجازت دی جائے، چیف جسٹس نے ہمیں بلایا اور کہا کہ آپ کی ملاقات کروائی جائے گی مگر 6 مہینے سے زیادہ ہوگئے، آج تک ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 74 سال کی کینسر کی مریضہ یاسمین راشد کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، انہیں جیل میں 2 سال سے زیادہ ہوگئے ہیں۔اس موقع پر سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پارٹی رہنماوٓں کی سزاوٓں کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے، انسداد دہشتگردی کے فیصلے سے انصاف پر اب کسی کا یقین نہیں رہا، عدالتوں فیصلوں سے نظر آرہا ہے کہ دور دور تک کوئی انصاف بھی ہے، یہ عدالت کے فیصلے نہیں بلکہ حکومت کے فیصلے ہیں۔اسد قیصر نے کہا کہ وہ عدالتوں کے معزز جج صاحبان سے درخواست کرتے ہیں کہ عوام آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ انصاف دیں گے، ہمیں پتا ہے کہ آپ کے ساتھ ذبردستی ہورہی ہے، آپ کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، آپ کو انصاف کے لیے کھڑا ہونا ہوگا، اگر لوگ آپ سے مایوس ہوگئے تو یہ ملک جو انارکی کی طرف جارہا ہے، خدانخواستہ اب خانہ جنگی نہ شروع ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سمیت تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ کے منصب کی عظمت کا سوال ہے کہ کیا آپ انصاف کے لیے کھڑے ہوں گے یا نہیں کھڑے ہوں گے، اگر نہیں تو تاریخ آپ کو یاد رکھے گی، ہم تو کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ربڑ اسٹمپ بن گئی ہے، اب اسے پارلیمنٹ کہنا گناہ ہے، ہم اب بھی کہتے ہیں کہ ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلائیں، عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرو، یہ ہائبرڈ سسٹم چلنے والا نہیں ہے۔تحریک انصاف نے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے 9 مئی مقدمات کے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔پی ٹی آئی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے بیان میں کہا کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے حوالے سے لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے پارٹی کی سینئر قیادت اور کارکنوں کو سنائی گئی سزائیں انصاف اور عدل کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے قانونی اصولوں اور منصفانہ ٹرائل کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سیاسی انتقام کی بنیاد پر دیئے گئے ہیں اور یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ان مقدمات میں شفافیت کو یکسر بالائے طاق رکھا گیا اور ملزمان کو اپنے دفاع کا موقع تک نہیں دیا گیا۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون و انصاف کی روح کو بحال کیا جائے اور سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تمام مقدمات کو ختم کیا جائے۔