ادویات اور سرجیکل آئٹمزآن لائن سسٹم کی بجائے مینول اوربغیرانٹری خریدے گے محکمہ مانیٹرنگ کرنے میں ناکام :آڈٹ رپورٹ
لاہور(کرائم رپورٹر)آڈٹ رپورٹ میں پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں 2ارب 11کروڑ روپے کی ادویات اور سرجیکل آئٹمز کی خریداری میں سنگین بے ضابطگیوں کو انکشاف ہوا ہے۔ مینول خریداری اور بغیر سٹاک انٹری کے ادویات خریدیں گئیں، کئی اہم ریکارڈ دستیاب ہی نہیں، بغیر کسی اسسمنٹ کے ادویات کی خریدار ہونے سے بڑے پیمانے پر ادویات ایکسپائر ہوگئیں۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سے متعلق آڈٹ رپورٹ 2024-25جاری کردی گئی،خریداری پنجاب حکومت کی لوکل پرچیز پالیسی کے خلاف کی گئی، بڑے ہسپتالوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے بدعنوانی بڑھنے کا خطرہ بڑھ گیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ خریداری پنجاب حکومت کی لوکل پرچیز پالیسی اور پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014 کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی۔ 9 جنوری 2023 کو جاری کردہ پنجاب حکومت کی گائیڈ لائنز کواپنانے سے انکار کیا گیا۔ پی کے ایل آئی نے پالیسی سے ہٹ کر 74کروڑ 62 لاکھ روپے کی خریداری کی اورضرورت سے زائد ادویات خریدیں جو ایکسپائر ہوگئیں جبکہ 30کروڑ 84لاکھ روپے کی میڈیسن اور سرجیکل ڈسپوزیبل بلک سٹاک خریدا۔ نشتر ہسپتال ملتان نے بجٹ سے 15 فیصد زائد میڈیسن خریدی جس کی مالیت 24 کروڑ 26 لاکھ روپے ہے ، نشتر میڈیکل یونیورسٹی نے 22 کروڑ 65 لاکھ کی زائد خریداری کی۔ سروسزہسپتال لاہور میں 15فیصد زائد میڈیسن خریدی گئی اور19 کروڑ 53 لاکھ روپے کی بے ضابطگی ہوئی۔میو ہسپتال لاہور میں 16 کروڑ 96 لاکھ ،میاں منشی ہسپتال میں 4 کروڑ 89 لاکھ روپے کی بے ضابطگی پائی گئی جبکہ سٹاک انٹری اور اہم ریکارڈ زغائب ہیں۔ ساہیوال میڈیکل کالج نے 2 کروڑ 7 لاکھ روپے کی زائد خریداری کی۔ سمز لاہور نے آئوٹ ڈور مریضوں کیلئے 1کروڑ 89 لاکھ روپے،جنرل ہسپتال نے ڈسچارج کردئیے گئے مریضوں کیلئے 95لاکھ روپے کی ادویات خریدیں۔کئی ہسپتالوں کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کی ریگولرائزیشن میں تاخیر رہی۔محکمہ سپیشلائزڈ ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کرنے میں بری طرح ناکام رہا،سیکرٹری اور متعلقہ افسر آڈٹ کے دوران کئی معاملات میں جواب دینیمیں ناکام رہے۔ کمزور مالیاتی کنٹرول بے ضابطگیوں کی بڑی وجہ بنی ، آن لائن سسٹم کے بجائے مینول خریداری سے کرپشن کا راستہ کھولا گیا اور رجسٹرڈ وینڈرز کی شرط نظر انداز کرتے ہوئے من پسند سپلائرز کو نوازا گیا۔ محکمہ سپیشلائزڈ اینڈ ہیلتھ کیئر حکام کا کہنا ہے کہ آڈٹ ٹیم کو جواب دیدیا گیا تھا، معاملہ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں جائے گا تو بھی جواب دینگے تاہم سیکرٹری سپیشلائزڈ عظمت محمود نے موقف دینے سے گریز کیا۔