اسرائیل نے الجزیرہ کے صحافی کو قتل کرنے کا منصوبہ کب اور کیوں بنایا؟

اسرائیل نے الجزیرہ کے صحافی کو قتل کرنے کا منصوبہ کب اور کیوں بنایا؟

غزہ سٹی پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے قطری نیوز چینل الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کو ایک سال قبل اسرائیلی فوج نے نشانے پر رکھا تھا۔

 اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے انس الشریف پر الزام لگایا تھا کہ وہ حماس کے کارکن تھے، جس کی بنیاد پر وہ طویل عرصے تک اسرائیلی فورسز کی نظر میں تھے اور مسلسل ان کی گرفتاری یا ہدف بننے کا خطرہ لاحق تھا۔اسرائیل نے اپنے دعوے کی حمایت میں چند دستاویزات بھی پیش کی تھیں جنہیں انہوں نے ثبوت کے طور پر پیش کیا، تاہم الجزیرہ نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور انس الشریف پر حملہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ الجزیرہ نے اس واقعے کو صحافیوں کے خلاف سنگین حملہ قرار دیا اور کہا کہ انس الشریف نے ہمیشہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کی۔انس الشریف اور ان کے چار ساتھیوں کو غزہ کے ایک اسپتال کے مرکزی دروازے کے باہر صحافیوں کے لیے لگائے گئے خیمے میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ رات گئے ہوا اور اس میں انس الشریف سمیت دیگر چار افراد بھی شہید ہوگئے۔

اس واقعے کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اسے تشویشناک واقعہ قرار دیا، جبکہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیلی فورسز کی جانب سے صحافیوں پر حملے کو آزادی اظہار رائے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ اس کے علاوہ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور دیگر کئی ممالک نے بھی اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور صحافیوں کی حفاظت پر زور دیا۔یہ واقعہ غزہ میں جاری تنازعے کے دوران صحافیوں کو درپیش خطرات اور آزادی صحافت کے حوالے سے عالمی تشویش کی عکاسی کرتا ہے، جہاں خبریں رپورٹ کرنا ایک نہایت مشکل اور خطرناک عمل بن چکا ہے۔