بھارت میں مذہبی عدم برداشت


عابد گوندل
بھارت جو کبھی دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کا دعویدار رہا ہے آج اس کی شناخت رفتہ رفتہ ایک تنگ نظر اور مذہبی عدم برداشت پر مبنی ریاست کے طور پر ابھر رہی ہے۔ یہ وہی ملک ہے جو اپنے آئین میں مذہبی آزادی، مساوات اور رواداری کی ضمانت دیتا ہے مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ بھارت میں ایک مخصوص مذہبی سوچ کو نہ صرف فروغ دیا جا رہا ہے بلکہ ریاستی سرپرستی میں اسے نافذ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمان، عیسائی، سکھ اور دیگر اقلیتی برادریاں اس بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں اقلیتوں کے لیے خوف اور غیر یقینی کی کیفیت عام ہے۔مذہبی عدم برداشت کی یہ لہر محض چند انتہا پسندوں کا پیدا کردہ معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاستی اداروں اور حکومتی بیانیے کا حصہ بن چکی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات، ان کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی اور فرضی الزامات کے تحت ہجوم کے ہاتھوں ان کا قتل ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ گائورکشا کے نام پر بے شمار مسلمان اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں اور ان مظالم کے مرتکب اکثر قانون کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں قانون کا اطلاق برابری کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ اکثریتی طبقے کے لیے نرمی اور اقلیتوں کے لیے سختی کا اصول کارفرما ہے۔مسیحی برادری بھی اس مذہبی عدم برداشت سے محفوظ نہیں رہی۔ چرچوں پر حملے، مذہبی اجتماعات میں مداخلت اور زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے واقعات آئے دن رپورٹ ہوتے ہیں۔ ’’گھر واپسی‘‘ جیسے پروگرام، جن کا مقصد غیر ہندو افراد کو زبردستی ہندو دھرم میں واپس لانا ہے دراصل بھارت کے سیکولر دعووں کی قلعی کھول رہے ہیں۔ ریاستی مشینری ان واقعات کو روکنے میں ناکام یا غیر سنجیدہ نظر ا?تی ہے اور بعض اوقات تو حکومتی رہنما خود ایسے اقدامات کی پشت پناہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔کشمیر کی صورتحال بھی بھارت کی مذہبی عدم برداشت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ وہاں مسلمانوں کی اکثریت کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ فوجی محاصرے، میڈیا پر قدغن اور مذہبی اجتماعات پر پابندیاں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ بھارتی حکومت مذہبی اور سیاسی ا?زادی کے حوالے سے کس قدر متعصب ہو چکی ہے۔ کشمیر میں مساجد بند کرنا، عید کے اجتماعات روکنا اور مذہبی رہنمائوں کو نظر بند کرنا یہ سب اس رجحان کو مزید واضح کرتے ہیں کہ بھارت میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز کس حد تک سرایت کر چکا ہے۔ تعلیمی نصاب اور میڈیا بھی اس عدم برداشت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ نصاب میں تاریخ کو مسخ کر کے ہندو بالادستی کو جواز فراہم کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کی قربانیوں کو کم کر کے یا مسخ کر پیش کیا جاتا ہے۔ میڈیا جو جمہوری معاشروں میں شفافیت اور سچائی کا علمبردار ہوتا ہے بھارت میں اکثر اوقات نفرت انگیزی کا ہتھیار بن چکا ہے۔ نیوز چینلز پر مسلمانوں کو دہشت گرد، غدار اور دشمن کے ایجنٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا ان کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔بھارت میں 
مذہبی عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے واقعات کا اثر صرف داخلی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پڑ رہا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا بھارت کو متنبہ کر چکی ہیں کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو یہ ملک کے سماجی تانے بانے کو برباد کر دے گا۔ مگر بھارتی حکومت اس تنقید کو مغربی سازش یا داخلی معاملات میں مداخلت قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے۔ یہ رویہ اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت میں اقتدار پر قابض قوتیں مذہبی تنوع کو اپنی طاقت کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور اسے ختم کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔مذہبی عدم برداشت کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے نتیجے میں بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ماضی میں گجرات، مظفر نگر اور دہلی میں ہونے والے فسادات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب ریاستی ادارے جانبدار ہو جائیں تو معاشرہ کس قدر تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ یہ فسادات نہ صرف ہزاروں بے گناہوں کی جان لے چکے ہیں بلکہ لاکھوں افراد کو بے گھر بھی کر چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان فسادات کے اصل محرکین کو اکثر سزا نہیں ملتی بلکہ بعض اوقات وہ سیاسی عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔بھارت کی جمہوریت اور اس کا آئین اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ہر شہری کو اپنی مذہبی آزادی حاصل ہو مگر عملی طور پر یہ آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ جب حکومتی سطح پر ایک خاص مذہب کو فوقیت دی جائے اور دیگر مذاہب کو کمتر سمجھا جائے تو یہ معاشرتی توازن کو برباد کر دیتا ہے۔ بھارت کا موجودہ سیاسی منظرنامہ اسی سمت میں بڑھ رہا ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر تفریق، نفرت اور تشدد کو معمول سمجھ لیا گیا ہے۔یہ صورتحال اس خطے کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ بھارت کا اثر و رسوخ اس کے ہمسایہ ممالک پر بھی پڑتا ہے۔ اگر وہاں مذہبی عدم برداشت کا رجحان جاری رہا تو یہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔ سرحد پار نفرت، جنگی جنون اور اقلیت دشمنی اس پورے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف بھارت کا داخلی نہیں بلکہ ایک علاقائی اور عالمی چیلنج بھی ہے۔ایک ایسا ملک جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے اگر وہ اپنے ہی شہریوں کو مذہبی بنیاد پر برابر کا درجہ نہیں دے سکتا تو اس کی جمہوریت محض ایک دکھاوا رہ جاتی ہے۔ بھارت کے رہنمائوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مذہبی ہم آہنگی کے بغیر نہ تو ملک کا اتحاد برقرار رہ سکتا ہے اور نہ ہی ترقی ممکن ہے۔ طاقت کے زور پر لوگوں کے عقائد کو دبایا جا سکتا ہے مگر دلوں سے نفرت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو معاشرے مذہبی تعصب میں ڈوب گئے وہ کبھی پائیدار امن اور ترقی حاصل نہیں کر سکے۔بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنے آئین کی روح کے مطابق ہر مذہب کے ماننے والوں کو برابر کے حقوق دے، نفرت انگیز بیانیوں کو مسترد کرے اور قانون کو سب کے لیے یکساں بنائے۔ یہ نہ صرف اس کے داخلی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی برادری میں اس کی ساکھ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب مذہبی عدم برداشت کا یہ زہر پورے بھارتی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس کا انجام ایسا ہوگا جس سے نکلنا ممکن نہیں رہے گا۔